مومنہ کے پاس میری ذاتی تصاویر اور ویڈیوز ہیں، جو ضائع کرنا ضروری ہیں، ثاقب چدھڑ کا مطالبہ

مومنہ اقبال اپنے موبائل سے میری لا تعداد تصاویر اور ویڈیوز بناتی رہی، جو کہ آج بھی صرف اسی کے قبضہ میں ہیں، مجھے ان تمام تصاویر اور ویڈیوز کے ڈیلیٹ یا وائرل ہونے کا خدشہ ہے؛ ایم پی اے کے بیان کے مندرجات


لاہور(قدرت روزنامہ)نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور کے انکوائری آفیسر کے سامنے جمع کرایا گیا اصل تحریری بیان منظرِ عام پر آ گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ بیان محمد ثاقب خان ولد محمد الطاف خان سکنہ مکان نمبر 82، گلبہار بلاک، بحریہ ٹاؤن، لاہور کی جانب سے جمع کرایا گیا ہے، جس میں انہوں نے اداکارہ مومنہ اقبال اور ان کے اہلخانہ پر کئی الزامات عائد کیے ہیں، کیسے آگے بڑھنے پر اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے ہائی پروفائل معاملے میں ایک نئی اور دستاویزی پیشرفت سامنے آئی ہے، ثاقب خان چدھڑ نے سائبر کرائم حکام کے سامنے اعترافِ تعلقات کے ساتھ ساتھ اداکارہ اور ان کے خاندان پر بلیک میلنگ، حقائق چھپانے اور کروڑوں روپے بٹورنے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
ثاقب چدھڑ نے اپنے تحریری بیان میں بتایا کہ اداکارہ مومنہ اقبال سے ان کی پہلی ملاقات سال 2020ء میں ایک شادی کی تقریب کے دوران ہوئی، جس کے بعد جلد ہی دونوں میں جان پہچان اور دوستی ہو گئی، یہ دوستی وقت کے ساتھ انتہائی قریبی تعلق میں بدل گئی اور ان کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا شروع ہو گیا، وہ فیملی، سوشل اور دیگر حلقوں میں بھی عموماً اکٹھے شامل ہوتے رہے۔
ایم پی اے کا کہنا ہے کہ انہوں نے مومنہ اقبال کے ساتھ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سیر و تفریح کے بے شمار دورے کیے، جن کے تمام تر اخراجات انہوں نے خود اپنی جیب سے برداشت کیے، ان کے پاس ٹریول ایجنٹ کی تفصیلات سمیت تمام ثبوت موجود ہیں، ثاقب خان نے اداکارہ کو دیئے گئے قیمتی گاڑیوں اور شاہانہ تحائف کی تفصیلات اور رسیدیں بھی جمع کرائی ہیں: انہوں نے کہا کہ مومنہ اقبال کو ہنڈا سوک، اور فارچیونر لیجنڈر گاڑیاں اور رولیکس گھڑی تحفے میں دی، جن کے ماڈل، قیمت اور دستاویزات بیان کے ساتھ منسلک ہیں، انہوں نے لاہور کے بی اسمارٹ اسٹور سے اداکارہ کو 1 کروڑ روپے کی شاپنگ کروائی، جس کی رسید موجود ہے، انہوں نے ڈائمنڈ جیولرز سے شاپنگ کرائی اور ٹریولنگ کے اخراجات بھی خود اٹھائے۔
ثاقب چدھڑ نے اپنے بیان میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مومنہ اقبال اپنے موبائل اور اپنے ٹیب سے میری لا تعداد تصاویر اور ویڈیوز بناتی رہی، جو کہ آج بھی صرف اسی کے قبضہ میں ہیں، مجھے ان تمام تصاویر اور ویڈیوز کے ڈیلیٹ یا وائرل ہونے کا خدشہ ہے، جس کو فوری طور پر قانون کی حراست میں لینا جانا ضروری ہے، مومنہ کے پاس میری ذاتی تصاویر اور ویڈیوز ہیں، جو ضائع کرنا ضروری ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں خاندانوں کے درمیان رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کی بات طے پا گئی تھی، تاہم مومنہ اقبال اور ان کی فیملی کی طرف سے اداکارہ کی ماضی میں ہونے والی شادی اور طلاق کی تفصیلات دیدہ و دانستہ طور پر چھپائی گئیں، جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس بابت مومنہ اور ان کے گھر والوں سے پوچھا، جس پر وہ صاف مکر گئے، اس کے بعد دونوں کے درمیان بداعتمادی پیدا ہوئی اور انہوں نے شادی سے انکار کر دیا، اور تقریباً اگست یا ستمبر 2025ء میں انہوں نے اپنی راہیں جدا کرلیں۔
ثاقب خان نے بیان میں کہا کہ رشتہ ختم ہونے کے بعد انہیں بلیک میل کیا گیا، مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال نے اپنے ای میل اکاؤنٹ سے میرے آسٹریلیا میں موجود بزنس پارٹنر رانا اسد کو ای میلز بھیجیں، جس میں ان پر سنگین الزامات لگائے گئے، اس کے بعد رمشا اقبال نے مبینہ طور پر بلیک میل کر کے بذریعہ میر رشید 10 ہزار آسٹریلین ڈالر وصول کیے، رمشا اقبال کی یونیورسٹی کی فیس کی مد میں مزید 13 ہزار آسٹریلین ڈالر بھی ادا کیے، اس کے علاوہ سال 2026ء میں رمشا اقبال کے آسٹریلیا سے پاکستان کے تمام ٹریولنگ اخراجات بھی برداشت کیے۔
بتایا جارہا ہے کہ ثاقب خان نے اپنے تحریری بیان میں اداکارہ کے بینک اکاؤنٹ کی مکمل تفصیلات بھی فراہم کی ہیں، انہوں نے بتایا کہ مسلم کمرشل بینک (ایم سی بی ) کی ایک مقامی شاخ میں واقع مومنہ اقبال کے اکاؤنٹ میں مختلف اوقات میں مجموعی طور پر 83 لاکھ روپے منتقل کیے گئے، اس اکاؤنٹ میں سال 2024ء اور 2025ء کے دوران کی گئی آخری ٹرانزیکشنز کے ثبوت بھی فراہم کر دیئے گئے ہیں۔
بیان کے آخری حصے میں ثاقب خان نے اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ 12 مئی 2026ء کو شام کے وقت بحریہ ٹاؤن لاہور میں واقع ان کے گھر کے سامنے پارک میں دو مشکوک لڑکے ان کے گھر کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھتے ہوئے پائے گئے، جب ڈرائیور نے ان لڑکوں سے وہاں کھڑے ہونے کی وجہ پوچھی، تو انہوں نے بتایا کہ انہیں حمزہ اور مومنہ نے یہاں بھیجا ہے، ان لڑکوں نے ڈرائیور کو دھمکی دی کہ اگر حمزہ کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی قانونی کارروائی کی گئی، تو ان کے پاس موجود ثاقب خان کی ذاتی ویڈیوز اور تصاویر کو انٹرنیٹ پر وائرل کر دیا جائے گا، ان مشکوک لڑکوں نے ثاقب خان کے ڈرائیور کو موبائل پر وہ ویڈیوز اور تصاویر بھی دکھائیں۔

WhatsApp
Get Alert