بلوچستان کو خصوصی ترقیاتی پیکج دیا جائے، وفاقی بجٹ میں نظراندازی افسوسناک ہے: جمعیت علماء اسلام


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر و سینیٹر مولانا عبدالواسع اور صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے وفاقی بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ بلوچستان ایک ہنگامی اور غیر معمولی خصوصی ترقیاتی پیکج کا متقاضی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ گزشتہ کئی ادوارِ حکومت کے دوران بلوچستان میں کوئی بڑا میگا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا جو عوام کی معاشی بہتری، بنیادی ڈھانچے، روزگار، تعلیم، صحت اور مواصلاتی ضروریات کو پورا کرسکے۔ ان کے مطابق قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود صوبہ بدترین پسماندگی، غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ وفاق کی مسلسل عدم توجہی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ بلوچستان کے آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق کے لیے اصولی جدوجہد کی ہے اور اس راہ میں سیاسی قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار کو کبھی بھی عوامی مفادات پر ترجیح نہیں دی گئی، اور وہ ہمیشہ محروم طبقات کی آواز بنے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ آئینی بالادستی، حقِ خود ارادیت اور عوامی اختیارِ حکمرانی ہے۔ آئین ریاست اور عوام کے درمیان ایک سماجی معاہدہ ہے، جس کی پاسداری قومی وحدت اور وفاق کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔
مولانا عبدالواسع اور مولانا آغا محمود شاہ نے کہا کہ بلوچستان اس وقت سیاسی بے یقینی، انتظامی افراتفری اور سماجی اضطراب کا شکار ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک صوبے کے عوام کے جائز مطالبات اور معاشی محرومیوں کو نظرانداز کیا جاتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بڑے مسائل میں عوام کو حقِ رائے دہی اور حقیقی سیاسی نمائندگی سے محروم کرنا، معدنی وسائل پر غیر مقامی تسلط، رائلٹی میں صوبے کے حصے کی عدم ادائیگی اور بدامنی شامل ہیں۔
رہنماؤں نے مزید کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے پشین میں ہونے والے عوامی اجتماع نے بلوچستان کے حقوق کے حوالے سے عوامی رائے کا اظہار کیا، جسے نظرانداز کرنا سیاسی غلطی ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے وسائل پر صوبے کے عوام کا حق، صوبائی خودمختاری، منصفانہ وسائل کی تقسیم اور امن و امان کا قیام ہی مضبوط وفاق کی ضمانت ہے۔

WhatsApp
Get Alert