بیروت پر آج اسرائیلی حملہ کسی صورت نہیں ہونا چاہیے تھا، ٹرمپ


واشنگٹن (قدرت روزنامہ) بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ پر اسرائیلی بمباری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل دونوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کی وجہ سے اب تک کی تمام سفارتی محنت کو ضائع نہیں کیا جانا چاہیے، تمام فریقین کو فوری طور پر پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی فضائی حملے میں 3 افراد جاں بحق ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر معمولی پیغام جاری کیا، انہوں نے جہاں اسرائیل کو مزید مہم جوئی سے باز رہنے کی سخت وارننگ دی، وہاں ایران کے حامی گروپ حزب اللہ کو بھی اسرائیل پر حملے بند کرنے کا کہا تاکہ خطے میں ہونے والی تاریخی امن ڈیل کو بچایا جا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیروت پر اسرائیلی بمباری کی ٹائمنگ اور جواز پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ بیروت پر ہونے والا یہ حالیہ حملہ کسی صورت نہیں ہونا چاہیے تھا اور اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اگرچہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے، لیکن وہ جس مبینہ حملے کا بدلہ لینے کی بات کر رہا تھا، وہ بہت ہی چھوٹا اور بے معنی تھا، جس میں نہ تو کوئی زخمی ہوا اور نہ ہی کوئی مارا گیا تھا، اس لیے اتنے چھوٹے معاملے پر اتنا بڑا ردعمل دینا سمجھ سے باہر ہے۔
امریکی صدر نے ایران اور خطے کے دیگر ممالک کو یقین دلایا کہ وہ ایک بڑے اور تاریخی امن معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں، ایک جامع معاہدہ بالکل تیار ہے جو پورے خطے بشمول لبنان میں مستقل امن و سکون لے کر آئے گا، اس لیے اسرائیل کے اس غیر ضروری اقدام کو اس اہم ترین سفارتی عمل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، اس سنہری موقع کو اپنے ہاتھوں سے برباد مت کرو۔
انہوں نے صیہونی حکومت کو دوٹوک الفاظ میں حکم دیا کہ اب اسرائیل کی طرف سے لبنان میں کہیں بھی، کسی بھی جگہ کوئی نیا حملہ نہیں ہونا چاہیے، جہاں اسرائیل پر پابندی ہوگی، وہاں دوسری طرف سے بھی اب کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے، بشمول حزب اللہ کے، اب اسرائیل کے خلاف اپنے تمام حملے فوری طور پر بند کر دے، تمام فریقین کو فوری طور پر پیچھے ہٹنا ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert