بلوچستان ‘ محکمہ مواصلات و تعمیرات میں 12 ارب 11 کروڑ کے بے قاعدہ اخراجات کا انکشاف 3 ارب 24 کروڑ کے فنڈز لیپس، پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی بھاری تنخواہوں اور گاڑیوں پر سوالات، پی اے سی نے 10 روز میں 100 فیصد ریکوری کا حکم دے دیا

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کے مالی سال 2023-24 کے آڈٹ پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے دوران محکمے میں 12 ارب 11 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے بے قاعدہ اخراجات کا ہوشربا انکشاف ہوا ہے۔ کمیٹی نے اتنی بڑی رقم کی مالیاتی بے ضابطگیوں پر شدید برہمی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمے سے باضابطہ وضاحت اور تمام متعلقہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی کے نئے کمیٹی روم میں منعقدہ اجلاس میں اراکین کمیٹی ولی محمد نورزئی، رحمت صالح بلوچ، زمرک خان اچکزئی، فضل قادر مندوخیل، میر محمد خان لہڑی، غلام دستگیر بادینی، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، ایڈیشنل اکاؤنٹنٹ جنرل بلوچستان نورالحق، سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں مالی سال 2022-23 کے دوران محکمہ مواصلات و تعمیرات کو ترقیاتی اور غیر ترقیاتی مد میں مختص 44 ارب 42 کروڑ 71 لاکھ روپے سے زائد فنڈز اور ان میں سے 41 ارب 18 کروڑ روپے سے زائد کے اخراجات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ محکمے کے 3 ارب 24 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز نااہلی اور بروقت استعمال نہ ہونے کے باعث لیپس ہو گئے۔ کمیٹی اراکین نے سخت ہدایت جاری کی کہ غیر استعمال شدہ فنڈز کو بروقت سرنڈر کیا جانا چاہیے تھا تاکہ یہ خطیر رقم صوبے کے دیگر عوامی و ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہو سکتی۔ چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے ریمارکس دیے کہ صرف ایک مالی سال کے دوران سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے 12 ارب روپے سے زائد کے بے قاعدہ اخراجات سامنے آنا انتہائی تشویش ناک ہے جس سے محکمے کی کارکردگی اور مالیاتی نظم و ضبط کا پول کھل گیا ہے۔
اجلاس میں پروجیکٹ ڈائریکٹرز (PDs) کی تعیناتی کے طریقہ کار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جب متعلقہ سرکاری محکمے اور انجینئرز پہلے سے موجود ہیں تو ترقیاتی منصوبوں کے لیے علیحدہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز تعینات کرنے کا کیا جواز ہے؟ کمیٹی نے پی ڈیز کے تحت چلنے والے تمام منصوبوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ رکن کمیٹی میر محمد خان لہڑی نے مؤقف اپنایا کہ منصوبہ بندی و ترقیات اور سی اینڈ ڈبلیو کے ذریعے شروع کیے گئے منصوبوں کی ذمہ داری براہِ راست متعلقہ محکموں کو دی جانی چاہیے کیونکہ نامکمل منصوبے بالآخر انہی محکموں کے گلے پڑتے ہیں، جس سے پی ڈیز کی تقرری کی افادیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے بعد نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری، غیر معمولی تنخواہوں اور اضافی عملے کی بھرتیاں سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ ڈالتی ہیں، لہٰذا تمام غیر ضروری تقرریوں، گاڑیوں کی خریداری اور اخراجات کا مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے۔
اجلاس میں آڈٹ پیرا 4.2.1 کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ مختلف بلڈنگ ڈویژنز میں مالی سال 2021-22 اور 2022-23 کے دوران ٹھیکیداروں کو منظور شدہ شیڈول ریٹس سے زائد ادائیگیوں اور پیمائش کے حساب میں غلطیوں کے باعث 9 کروڑ 3 لاکھ 41 ہزار روپے کی زائد ادائیگیاں کی گئیں۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو مکمل ریکارڈ پیش کرنے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی 100 فیصد ریکوری یقینی بنانے کا حکم دیا۔ اسی طرح آڈٹ پیرا 4.2.2 کے تحت منظور شدہ پی سی ون، تخمینہ جات اور معاہدوں میں درج مقدار سے زائد کام ظاہر کر کے 4 کروڑ 4 لاکھ 14 ہزار روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جس پر پی اے سی نے متعلقہ افسران کو 10 دن کے اندر اس رقم کی 100 فیصد ریکوری کی حتمی ہدایت جاری کی۔ کمیٹی نے نصیرآباد، نوشکی، ژوب اور دیگر اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں سمیت کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم اور بلوچستان لائیولی ہڈز اینڈ انٹرپرینیورشپ پروجیکٹ (BLEP) کے خصوصی آڈٹ کا بھی حکم دیا۔ محکمے کی جانب سے مکمل ریکارڈ عدم پیشی پر باقی ماندہ آڈٹ پیراز پر مزید کارروائی مؤخر کرتے ہوئے آئندہ اجلاس 30 نومبر کو طلب کر لیا گیا۔
