مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ کی ڈرون نگرانی اور سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر پر حملے کیخلاف بلوچستان بھر میں جے یو آئی کا احتجاج

خضدار، چمن، پشین، قلعہ سیف اللہ، نصیرآباد سمیت تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں ریلیاں، چادر و چاردیواری کا تقدس پامال کرنے والوں کیخلاف شفاف تحقیقات کا مطالبہ


خضدار/ قلعہ سیف اللہ/ کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی خصوصی ہدایت پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی نجی رہائش گاہ کی ڈرون کے ذریعے فضائی فوٹیج بنانے، اسے سوشل میڈیا پر نشر کرنے، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور ان کے خلاف منظم کردار کشی کی مہم کے خلاف بلوچستان کے تمام اضلاع کوئٹہ، خضدار، آواران، موسیٰ خیل، ہرنائی، لسبیلہ، قلعہ سیف اللہ، زیارت، نصیرآباد، جعفرآباد، چمن، پشین، قلات، مستونگ اور کوہلو سمیت صوبے بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں زبردست احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور جلسے منعقد کیے گئے۔ ان اجتماعات میں جے یو آئی کے ذمہ داران، کارکنان، علماء کرام، قبائلی عمائدین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے قائد جمعیت سے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا۔
کئی اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نافذ کردہ دفعہ 144 اور رکاوٹوں کے باوجود کارکنوں نے پرامن جمہوری طرزِ عمل کے تحت اپنا احتجاج بھرپور انداز میں ریکارڈ کرایا۔ خضدار میں احتجاجی ریلی مختلف شاہراہوں سے گزر کر آزادی چوک پر جلسے میں تبدیل ہو گئی جبکہ موسیٰ خیل میں ریلی ضلعی سیکرٹریٹ سے روانہ ہو کر کنگری موڑ پر دھرنے کی شکل اختیار کر گئی۔ ہرنائی، لسبیلہ، قلعہ سیف اللہ، زیارت، نصیرآباد اور چمن میں بھی سینکڑوں کارکن سڑکوں پر نکل آئے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن ملک کی صف اول کی دینی و سیاسی شخصیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ آئین کی بالادستی، جمہوریت، پارلیمانی خودمختاری اور عوامی حقوق کی جنگ لڑی ہے۔ ان کی نجی رہائش گاہ کی ڈرون کے ذریعے غیر قانونی نگرانی اور اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنا کسی مہذب اور جمہوری ریاست میں قطعی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ چادر و چار دیواری کا تقدس ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے اور کسی کی نجی زندگی میں ایسی غیراخلاقی مداخلت ملکی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
مقررین نے کہا کہ سیاسی اختلاف کا جواب سیاسی مکالمے اور دلیل کے بجائے اوچھی کردار کشی اور نجی زندگی کو نشانہ بنا کر دینا حکمرانوں اور ریاستی اداروں کی فکری شکست کا عکاس ہے۔ انہوں نے واقعے کی فوری، آزادانہ اور شفاف عدالتی تحقیقات کرا کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی مقررین نے جے یو آئی کے مرکزی رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کے خاندان کو ہراساں کرنے، ان کے بھائی کا کاروبار بند کرنے اور سیکیورٹی واپس لینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریاستی مشینری کو سیاسی انتقام کا ہتھیار بنانا بند کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی کے کارکنان اپنی قیادت کے ہر فیصلے پر لبیک کہنے کے لیے مکمل تیار ہیں اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert