قلعہ سیف اللہ میں نوجوان کے مبینہ اغوا، تشدد اور خودکشی کا معاملہ، ملزمان نے بھتیجے پر وحشیانہ تشدد کیا، ویڈیو بنائی اور وائرل کرنے کی دھمکیاں دیں جس سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کی، چچا کا الزام

قلعہ سیف اللہ (قدرت روزنامہ)قلعہ سیف اللہ میں مبینہ طور پر اغوا، بدترین تشدد اور بعد ازاں صدمے کے باعث خودکشی کرنے والے نوجوان ظفراللہ شاہیزئی جلالزئی کاکڑ کے چچا مولوی روح اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کی انتہائی لرزہ خیز تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بھتیجے ظفراللہ کو 13 جون کو تین مقامی افراد نے زبردستی اغوا کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ملزمان اسی رات نوجوان کو بدترین تشدد کے بعد نیم مردہ اور زخمی حالت میں سڑک کے کنارے پھینک کر موقع سے فرار ہو گئے تھے، جس کے بعد اہلخانہ نے اسے فوری طور پر قلعہ سیف اللہ سے کوئٹہ منتقل کیا جہاں اس کا علاج کرایا گیا، تاہم وحشیانہ جسمانی و ذہنی ٹارچر کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دبا کا شکار ہو چکا تھا۔چچا کے مطابق، علاج کے بعد جب ظفراللہ گھر واپس آیا تو اس نے بتایا کہ اغوا کاروں نے اس پر تشدد کے دوران اس کی برہنہ حالت میں زبردستی ویڈیو بھی بنائی تھی۔ ویڈیو بنانے کے دوران جب ظفراللہ نے مزاحمت کرتے ہوئے ملزمان سے موبائل فون چھیننے کی کوشش کی تو اسے مزید وحشیانہ طریقے سے پیٹا گیا یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو گیا۔ مولوی روح اللہ نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے ظفراللہ کو سڑک کنارے چھوڑتے وقت زبان بند رکھنے کے عوض بیس ہزار روپے کی پیشکش بھی کی تھی، جسے نوجوان نے سختی سے مسترد کر دیا۔ اس پر ملزمان نے دھمکی دی کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو وہ اس کی برہنہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر کے اسے کہیں کا نہیں چھوڑیں گے۔اہلخانہ کا کہنا ہے کہ بعد میں ملزمان نے داد نامی ایک شخص کے ذریعے رابطہ کر کے معاملے کو دبا کے تحت رفع دفع کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن خاندان نے اس غیر اخلاقی تجویز کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ چچا نے روتے ہوئے بتایا کہ اس بدنامی کے خوف اور شدید ذہنی اذیت کے باعث واقعے کے تیسرے روز ان کے بھتیجے ظفراللہ نے گھر میں پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ملزمان اسی علاقے کے ہیں اور خاندان انہیں نام بہ نام جانتا ہے۔ متاثرہ خاندان نے وزیراعلی بلوچستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اعلی حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس لرزہ خیز واقعے کی شفاف تحقیقات کرا کے ظالم ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، انہیں قانون کے مطابق عبرتناک سزا دی جائے اور مظلوم خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
