بلوچستان کے مختلف اضلاع میں آج بھی شدید زلزلہ، 90 سے زائد مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی زلزلے کے شدید جھٹکوں کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے جبکہ 90 سے زائد مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں آج بھی زلزلے سے لرز اٹھے ، موسیٰ خیل، بارکھان، رکنی اور کوہلو سمیت مختلف علاقوں میں صبح سویرے آنے والے شدید جھٹکوں کے باعث شہری خوف کے عالم میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔
زلزلہ پیما مرکز نے بتایا زلزلے کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی ہے، جس کا مرکز ضلع بارکھان سے 58 کلومیٹر شمال مشرق میں اور گہرائی 19 کلومیٹر تھی۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں زلزلے کے شدید اور پے در پے جھٹکوں نے بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچایا ہے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق، تازہ ترین زلزلے کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی ہے، جس کا مرکز ضلع بارکھان سے 58 کلومیٹر شمال مشرق میں اور گہرائی 19 کلومیٹر تھی۔
مکانات کی تباہی: ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق کے مطابق، زلزلے کے باعث تحصیل کنگری کے علاقے چھاپ، راڑاشم اور کاجھوری میں پینتیس (35) سے زائد رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی مکانات گر گئے ہیں۔
ملبے تلے دبنے اور مختلف حادثات کے نتیجے میں اب تک 6 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے. مقامی لوگوں کا قیمتی سامان، نقدی اور مال مویشی بھی ملبے تلے دب گئے ہیں۔
سیلابی ریلوں کے بعد اب زلزلے کے جھٹکوں سے واپڈا کالونی اور رابطہ سڑکوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر نجیب اللہ کاکڑ نے بتایا کہ موسیٰ خیل میں زلزلے سے 90 سے زائد مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے یا شدید متاثر ہوئے، مکانات کی دیواریں گرنے سے 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ، جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں تاہم دور دراز علاقوں سے رابطہ تاحال بحال نہ ہو سکا۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز بھی کوہلو اور گردونواح میں ایک ہی دن میں تین بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے.
پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے لپ زلزلے کے فوراً بعد امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب متاثرہ خاندانوں نے شدید گرمی اور کھلے آسمان تلے ہونے کے باعث حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے خیموں، خوراک اور صاف پانی کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
