بازئی قبائیل کی اغبرگ کوئٹہ میں زمینوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ پر تشویش ‘ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور نیب سے نوٹس لینے کا مطالبہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) موضع خشکابہ ژور اغبرگ، ٹپہ نوحصار ،تحصیل و ضلع کوئٹہ میں بازئی قبائل کی آبائی اراضیات سے متعلق جاری تنازعات، مبینہ تجاوزات اور کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے مجوزہ ڈیری فارم منصوبے کے خلاف بازئی قبائل کے معتبرین اور عمائدین کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں علاقے کی اراضی، ریونیو ریکارڈ، عدالتی احکامات اور مبینہ بے ضابطگیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا یے۔ کہ مذکورہ اراضی کے حوالے سے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بلوچستان کے سامنے زیرِ سماعت ازخود نوٹس کیس نمبر 06/2026/SMBR میں 18 جون 2026 کو احکامات جاری ہو چکے ہیں، جن کے تحت سال 2024 کے سیٹلمنٹ ریکارڈ کی ازسرِ نو جانچ، حدود کی تصدیق اور ریونیو سروے کا عمل جاری ہے۔ عمائدین کے مطابق جب تک ریونیو ریکارڈ اور اراضی کی حدود سے متعلق معاملات حتمی طور پر طے نہیں ہوتے، اس علاقے میں کسی نئے سرکاری یا تجارتی منصوبے کو آگے بڑھانا مناسب نہیں۔ مذکورہ اراضی پر ماضی میں مبینہ طور پر جیو ہاسنگ اسکیم کے نام سے منصوبہ متعارف کرایا گیا، جس کی منظوری اور NOC سے متعلق معاملات تاحال زیرِ التوا ہیں، تاہم اس کے باوجود اشتہارات اور پلاٹوں کی فروخت کے اعلانات سامنے آئے۔ عمائدین نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی فرد یا ادارے کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بازئی قبائل کے مطابق اب اسی متنازعہ اراضی پر ڈیری فارم منصوبہ تجویز کیا جا رہا ہے، جس پر شدید تحفظات ہیں۔ علاقے کی جغرافیائی ساخت اور ناہموار زمین کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے کی تکنیکی و ماحولیاتی موزونیت کا غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر زمین کے ملکیتی، ریونیو اور حدود کے معاملات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں تو اس پر کسی منصوبے کی منظوری یا عملی پیش رفت کس قانونی اور انتظامی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔قبائلی عمائدین نے کیو ڈی اے کے بعض افسران اور متعلقہ حکام پر مبینہ بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر شفاف فیصلوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان الزامات کی تحقیقات کسی غیر جانب دار ادارے سے کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی ترقیاتی منصوبے کی مخالفت نہیں بلکہ آبائی اراضی، قانون، عدالتی احکامات اور عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان، بالخصوص کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال اور قبائلی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اراضی کے معاملات انتہائی احتیاط اور شفافیت کے ساتھ حل کیے جانے چاہئیں۔ کسی بھی فریق کو قانون ہاتھ میں لینے یا متنازعہ اراضی پر زبردستی پیش رفت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ بازئی قبائل نے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ، قومی احتساب بیورو (نیب)، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان اور متعلقہ اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ جیو ہاسنگ اسکیم، این او سی کے معاملات، اراضی کی الاٹمنٹ، مجوزہ ڈیری فارم منصوبے اور متعلقہ افسران کے کردار کی غیر جانب دارانہ اور اعلی سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔ جب تک ریونیو ریکارڈ، حدود اور ملکیتی تنازعات واضح نہیں ہوتے، متنازع اراضی پر کسی بھی منصوبے کی پیش رفت روکی جائے اور تمام کارروائی قانون اور عدالتی احکامات کے مطابق کی جائے۔
