بلوچستان بدترین بدامنی اور لاقانونیت کا شکار، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور جے یو آئی کا مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا کی قیادت میں پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ملک بالخصوص بلوچستان اور پشتون وطن کی مجموعی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال، حالیہ دہشت گردی کے واقعات، ٹارگٹ کلنگ، مسلح گروہوں کی سرگرمیوں، قومی شاہراہوں پر بڑھتے ہوئے جرائم، غیر قانونی الاٹمنٹس، عوام اور قبائل کی اراضی پر قبضوں اور دیگر سنگین مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے صوبے میں روز بروز بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان بالخصوص پشتون علاقوں میں حالات انتہائی تشویشناک شکل اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ اس وقت بدترین بدامنی، لاقانونیت، غیر یقینی صورتحال اور انتظامی بحران سے دوچار ہے، جبکہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور ریاستی عملداری کو یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں عوام ڈاکوؤں، جرائم پیشہ عناصر، مسلح جتھوں اور دہشت گرد گروہوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ رہنماؤں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران رونما ہونے والے افسوسناک واقعات، بالخصوص اضلاع زیارت، شاہرگ، منگلہ، قلعہ عبداللہ، میزئی اڈہ، پشین اور دیگر علاقوں میں قومی شاہراہوں پر مسلح عناصر کی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ-خضدار، کوئٹہ-کراچی، کوئٹہ-تفتان، کوئٹہ-لورالائی، کوئٹہ-ژوب اور کوئٹہ-چمن سمیت اہم شاہراہوں پر مسلح گروہوں اور جرائم پیشہ عناصر کی آزادانہ نقل و حرکت اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت کی عملداری اور ریاستی رِٹ عملاً کمزور ہو چکی ہے۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صوبے کو درپیش موجودہ سنگین صورتحال کسی ایک جماعت یا طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے صوبے، عوام اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ اس لیے تمام سیاسی، جمہوری اور قومی قوتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر امن، سیاسی استحکام اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ اور مؤثر لائحہ عمل اختیار کریں۔ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ حالات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کے نہایت خطرناک سیاسی، سماجی اور معاشی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اتفاق کیا گیا کہ مختلف سیاسی جماعتوں اور جمہوری قوتوں کے درمیان مشاورت کا عمل مزید تیز اور مؤثر بنایا جائے گا۔ آئندہ بھی مشترکہ مشاورتی نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں موجودہ حالات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد صوبے میں امن و استحکام کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ ملاقات میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سینئر سیکریٹری سید قادر آغا ایڈووکیٹ، مرکزی سیکریٹری اطلاعات عیسیٰ روشان، مرکزی سیکریٹری مالیات محمد یوسف خان کاکڑ، صوبائی صدر نصراللہ خان زیری، مرکزی سیکریٹری اللہ نور خان اور صوبائی سیکریٹری اول فقیر خوشحال کاسی بھی موجود تھے۔ جبکہ جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے صوبائی نائب امیر مولانا کمال الدین، صوبائی نائب امیر مولانا سرور موسیٰ خیل، صوبائی جنرل سیکریٹری مولوی محمود شاہ، مولانا منظور مینگل، مولانا خورشید احمد اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ ملاقات کے اختتام پر جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا، جہاں باہمی روابط، سیاسی تعاون اور صوبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مستقبل میں رابطوں کے تسلسل پر بھی اتفاق کیا گیا۔
