مقتول کا قاتل معلوم نہ ہو تو قاتل ریاست ہوتی ہے، ہاشم خان نورزئی کے قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے خوشحال خان کاکڑ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین اور رکنِ قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے ممتاز تاجر، سماجی شخصیت اور کابل جان ہوٹل کے مالک شہید ہاشم خان نورزئی کے المناک قتل پر گہرے رنج و غم اور شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار شہید ہاشم خان نورزئی کی رہائش گاہ پر ان کے والد، بھائیوں، خاندان کے دیگر افراد اور عزیز و اقارب سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، مرکزی سیکریٹری مالیات محمد یوسف خان کاکڑ، صوبائی صدر نصراللہ خان زیری سمیت پارٹی کے دیگر مرکزی و صوبائی عہدیداران اور کارکنان بھی موجود تھے۔ خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا سمیت پورے صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک اور سنگین شکل اختیار کر چکی ہے۔ آئے روز قتل و غارت گری، ٹارگٹ کلنگ، مسلح گروہوں کی کارروائیاں، اغوا اور بدامنی کے دیگر واقعات رونما ہو رہے ہیں، جس کے باعث عوام میں شدید خوف و ہراس اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کی اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب کسی مقتول کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا اور نہ ہی واقعات کی شفاف تحقیقات ہوتی ہیں تو اس سے ریاستی اداروں کی کارکردگی اور عملداری پر سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “جس مقتول کا قاتل معلوم نہ ہو، اس کا قاتل ریاست ہوتی ہے”،

اور یہ صورتحال کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ خوشحال خان کاکڑ نے وفاقی و صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ شہید ہاشم خان نورزئی کے قتل کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ عوام کا قانون اور انصاف کے نظام پر اعتماد بحال ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ہاشم خان نورزئی ایک ممتاز، باوقار اور کامیاب تاجر تھے، جنہوں نے کوئٹہ میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے کابل جان ہوٹل سمیت مختلف کاروباری ادارے قائم کیے اور سینکڑوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ وہ نہ صرف کاروباری حلقوں میں ایک معتبر شخصیت تھے بلکہ سماجی خدمات اور عوامی فلاح کے جذبے سے بھی سرشار تھے۔ ایسے محنتی، باصلاحیت اور عوام دوست شخص کا بے رحمانہ قتل نہ صرف انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے بلکہ یہ صوبے کے تجارتی، معاشی اور سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے بھی ایک سنگین دھچکا ہے۔ انہوں نے شہید ہاشم خان نورزئی کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو یہ عظیم صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

WhatsApp
Get Alert