نوجوانوں میں کینسر کی شرح بڑھنے کی اہم وجہ دریافت


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)دنیا بھر میں جوان افراد میں آنتوں کے کینسر کے کیسز کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کینسر کو دنیا میں اموات کی وجہ بننے والا دوسرا بڑا مرض خیال کیا جاتا ہے اور اس کی چند اقسام سب سے زیادہ ہلاکتوں کا باعث بنتی ہیں۔
حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق کینسر کی مخصوص اقسام سے جوان افراد (50 سال سے کم عمر) کے متاثر ہونے کا خطرہ 1950 کی دہائی کے بعد سے مسلسل بڑھا ہے۔
اب ایک نئی تحقیق میں اس کی اہم وجہ دریافت ہوئی ہے، درحقیقت 1980 اور 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد کی حیاتیاتی عمر پہلے کی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے اور یہ کینسر کیسز کی شرح میں اضافے ایک اہم وجہ ہے۔
خیال رہے کہ ویسے تو ہر فرد کی عمر کا تعین تاریخ پیدائش (کرانیکل ایج) سے کیا جاتا ہے مگر طبی لحاظ سے ایک حیاتیاتی عمر (بائیولوجیکل ایج) بھی ہوتی ہے جو جسمانی اور ذہنی افعال کی عمر کے مطابق ہوتی ہے۔
جینز، طرز زندگی اور دیگر عناصر اس حیاتیاتی عمر پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ عمر جتنی زیادہ ہوگی مختلف امراض کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔

امریکا کے واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی تحقیق میں 1965 سے 1969 اور 1990 سے 1999 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کی حیاتیاتی عمر کا موازنہ کیا گیا۔
نتائج سے ثابت ہوا کہ 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد کی حیاتیاتی عمر 1960 کی دہائی میں پیدا ہونے والوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی تھی۔
خواتین کے مقابلے میں مردوں کی حیاتیاتی عمر میں فرق زیادہ نمایاں تھا۔
تحقیق کے مطابق حیاتیاتی اور جسمانی عمر کے درمیان فرق جتنا زیادہ ہوگا، کینسر کی مختلف اقسام پھیپھڑوں، نظام ہاضمہ اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔
1990 سے 2019 کے دوران 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر کیسز کی شرح میں 24 فیصد اضافہ ہوا، خاص طور پر آنتوں کا کینسر جوان افراد میں زیادہ عام ہو رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد آنتوں کے کینسر کا خطرہ 1996 کی دہائی میں پیدا ہونے والوں کے مقابلے میں 4 گنا سے زیادہ ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق اس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے بلوغت کا آغاز قبل از وقت ہونے لگا ہے، موٹاپا، ذیابیطس اور فالج کا سامنا بھی جلد ہونے لگا ہے، جس کے نتیجے میں حیاتایتی عمر کی رفتار میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اور یہ کینسر کا خطرہ بڑھانے والے عناصر ہیں۔

کسی جسمانی عضو کی عمر کا نظام مجموعی جسم سے مختلف ہوسکتا ہے اور مختلف جسمانی اعضا کے نظام کی عمر میں اضافے کی رفتار الگ ہوسکتی ہے۔
محققین نے دریافت کیا کہ جب مدافعتی نظام کی عمر حقیقی عمر کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہے تو کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اسی طرح اگر چربی کے ٹشوز کی عمر جسمانی عمر سے زیادہ ہو تو آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ ابھی ہمارے پاس جوان افراد میں کینسر کی شرح بڑھنے کا کوئی ٹھوس جواب موجود نہیں مگر تحقیقی رپورٹس جیسے ہماری تحقیق سے ان تفصیلات کو اکٹھا کرنے میں مدد ملتی ہے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ جوان افراد میں کینسر کیسز کی تعداد تیزی سے کیوں بڑھ رہی ہے۔
اب محققین کی جانب سے یہ سمجھنے کے لیے تحقیق کی جائے گی کہ اردگرد کا ماحول کس حد تک کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے اور اس مرض کی روک تھام کیسے ممکن ہے، اس تحقیق کے نتائج جرنل میڈیسن میں شائع ہوئے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert