وندر میں کروڑوں کی لاگت سے تعمیر کردہ ویجیٹیبل مارکیٹ فعال نہ ہوسکی

سونمیانی وندر(قدرت روزنامہ)عوامی فلاح تجاوزات کے خاتمے اور غریب کاروباری طبقے کو باعزت روزگار کی فراہمی کے دعوو¿ں کے ساتھ سابقہ دورِ حکومت میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ویجیٹیبل مارکیٹ فعال نہ ہوسکی۔ سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والی خطیر رقم کے ثمرات نہ شہریوں کو مل سکے اور نہ ہی ان مستحق سبزی ، گوشت ، مچھلی اور فروٹ فروشوں کو جن کے لیے یہ منصوبہ بنایا گیا۔
دوسری جانب وندر شہر میں ناجائز تجاوزات کے باعث ٹریفک جام بدستور شہریوں کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے جبکہ مارکیٹ کی بیشتر دکانیں مبینہ طور پر بند غیر فعال گوداموں اور کرایہ داری کے لیے استعمال ہونے کے الزامات کی زد میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق دکانوں کی ابتدائی الاٹمنٹ کے دوران سوالات اٹھے اور سیاسی بنیادوں پر فرضی قرعہ اندازی اور من پسند افراد کو نوازنے کے الزامات بھی سامنے آئے۔
بتایا جاتا ہے کہ دکانیں ان شخصیات کو الاٹ کی گئیں جن کا سبزی ، گوشت ، مچھلی یا فروٹ کے کاروبار سے کوئی عملی تعلق نہیں تھا۔ جبکہ حقیقی مستحق کاروباری افراد سڑکوں فٹ پاتھوں اور بازاروں میں انتہائی مشکل حالات میں روزگار کرنے پر مجبور اور سرکاری سرپرستی سے محروم ہیں۔ ویجیٹیبل مارکیٹ کو فعال کیا جاتا تو وندر شہر میں بڑھتی ہوئی تجاوزات ٹریفک جام اور ہنگم کاروباری صورتحال پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا تھا جس سے شہریوں کو صاف ستھرا کاروباری ماحول میسر آتا اور سرکاری منصوبہ حقیقی معنوں میں عوامی فلاح کا ذریعہ بنتا۔
فسوسناک امر یہ ہے کہ مبینہ بدانتظامی غیر سنجیدہ نگرانی اور طویل تاخیر نے مارکیٹ کو غیر فعال عمارت بنا کر رکھ دیا ہے جو کھنڈرات میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بلوچستان کے دورہ وندر کے موقع پر میونسپل کمیٹی وندر نے باضابطہ طور پر تجویز پیش کی کہ ویجیٹیبل مارکیٹ اس کے حوالے کی جائے تاکہ مقامی سطح پر شفاف انداز میں حقیقی مستحق کاروباری افراد کو دکانیں فراہم کی جا سکیں اور کرایوں کی مد میں حاصل ہونے والی ریونیو شہر کی صفائی ، نکاسی آب ، سڑکوں کی مرمت اور دیگر بلدیاتی سہولیات پر خرچ کی جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے اس تجویز پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ تاہم اس پیش رفت کے بعد ضلع حب ڈسٹرکٹ کونسل نے مارکیٹ پر اپنی انتظامی عملداری کا مو¿قف اختیار کرتے ہوئے دوبارہ خط و کتابت شروع کر دی اور نئی قرعہ اندازی کے ذریعے دکانوں کی ازسرِنو الاٹمنٹ کی تجویز دے دی۔ جس کے بعد دونوں اداروں کے درمیان اختیارات کا تنازع مزید نمایاں ہو کر منصوبہ ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق حب ڈسٹرکٹ کونسل نے اسسٹنٹ کمشنر وندر کے ذریعے مارکیٹ کو تالے لگوانے کی کوشش بھی کی تاہم یہ اقدام کامیاب نہ ہو سکا جبکہ اب بھی متعدد دکانوں پر ایسے افراد کے قبضے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں جو مبینہ طور پر پس پردہ اپنا نظام چلا رہے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ آج تک نہ مکمل اور مصدقہ الاٹمنٹ لسٹ عوام کے سامنے پیش کی گئی نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ کتنی دکانیں کن افراد کے قبضے میں ہیں ان کی الاٹمنٹ کس بنیاد پر کی گئی اور منصوبہ مکمل طور پر فعال کیوں نہ ہو سکا۔
اس حوالے سے عوامی و کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے کی شفاف تحقیقات کر کے مبینہ غیر قانونی یا غیر مستحق الاٹمنٹس منسوخ کی جائیں اور دکانیں حقیقی مستحق سبزی فروشوں ، گوشت فروشوں ، مچھلی فروشوں اور فروٹ فروشوں کو دی جائیں تو نہ صرف درجنوں خاندانوں کو باعزت روزگار مل سکتا ہے بلکہ وندر شہر میں ناجائز تجاوزات ٹریفک کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان ، ڈپٹی کمشنر حب اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی سرمائے سے تعمیر کیے گئے منصوبے کو مزید نظرانداز کرنے کے بجائے تمام معاملات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے اور غیر قانونی الاٹمنٹس ختم کرکے ویجیٹیبل مارکیٹ کو فوری طور پر اس کے اصل مقصد کے مطابق فعال بنا کر عوام کے لیے حقیقی معنوں میں کارآمد بنایا جائے۔
