بینک سے رقم نکالنے والوں کیلیے اہم ہدایات، پولیس نے شہریوں کو خبردار کردیا

کراچی(قدرت روزنامہ)کراچی پولیس کے اعلیٰ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ بینک یا اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کے بعد ڈکیتی کی وارداتوں سے بچنے کیلیے غیر معمولی احتیاط ضروری ہے، کیونکہ جرائم پیشہ گروہ منظم انداز میں ایسے افراد کی ریکی کرتے ہیں جو بڑی رقم لے کر بینک سے باہر نکلتے ہیں۔
بینک یا اے ٹی ایم سے رقم نکالنا روزمرہ زندگی کا معمول بن چکا ہے، تاہم اکثر ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جن میں شہری رقم نکلوانے کے فوراً بعد ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹ جاتے ہیں۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال سے محفوظ رہنے کیلیے ہر وقت چوکس رہنا انتہائی ضروری ہے۔
کراچی پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق اس نوعیت کی وارداتیں زیادہ تر منظم انداز میں کی جاتی ہیں۔ گروہ کے کچھ افراد بینک کے باہر کار یا موٹر سائیکل پر موجود ہوتے ہیں جبکہ ایک یا دو ملزمان بینک کے اندر کسی بہانے سے بیٹھ کر ٹرانزیکشن کرانے والے افراد کی نگرانی کرتے ہیں۔ بعد ازاں رقم لے کر نکلنے والے شہری کی نشاندہی باہر موجود ساتھیوں کو کی جاتی ہے۔
پولیس حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ بینک کے اندر اور باہر موجود غیر متعلقہ افراد پر نظر رکھیں اور کوشش کریں کہ کاونٹر پر رقم نمایاں نہ ہو۔ حکام کے مطابق رقم کو مخصوص لفافوں یا بینک بیگز میں رکھنے کے بجائے عام تھیلے یا کپڑوں کے اندرونی حصوں میں محفوظ کرنا زیادہ بہتر ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بینک سے نکلنے کے بعد گھر یا دفتر پہنچنے تک اپنے اردگرد اور پیچھے آنے والی گاڑیوں یا موٹر سائیکلوں پر نظر رکھیں۔ اگر کسی کے تعاقب کا شبہ ہو تو فوراً کسی رش والی جگہ یا قریبی تھانے کا رخ کریں۔
پولیس حکام نے مزید کہا کہ جہاں تک ممکن ہو بڑی رقم نقد نکالنے کے بجائے آن لائن ٹرانسفر، پے آرڈر یا موبائل بینکنگ ایپس کا استعمال کیا جائے۔ اسی طرح بڑی رقم نکلوانے کیلیے ہمیشہ ایک ہی بینک، ایک ہی وقت یا ایک ہی راستہ استعمال کرنے سے بھی گریز کیا جائے۔
حکام کے مطابق مہینے کے آغاز یا مخصوص دنوں میں بڑی رقم نکالنے سے حتی الامکان بچنا چاہیے کیونکہ ان دنوں میں ڈکیتی کی وارداتوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ بینک کے اندر یا باہر نکلتے وقت فون کالز اور میسجز میں مصروف نہ ہوں بلکہ پوری توجہ اردگرد کے ماحول پر رکھیں۔ بڑی رقم نکلوانے کیلیے اکیلے جانے کے بجائے کسی قابلِ اعتماد شخص کو ساتھ لے جانا زیادہ محفوظ ہے۔
پولیس نے مشورہ دیا ہے کہ تنہا یا اندھیرے علاقوں میں نصب اے ٹی ایم استعمال کرنے کے بجائے شاپنگ مالز یا دیگر مصروف مقامات پر موجود اے ٹی ایم مشینوں کو ترجیح دی جائے۔
