بلوچستان حکومت ڈاکٹروں کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام؛ ہسپتالوں میں ٹارگٹ کلنگ اور تیزاب گردی پر حکومتی خاموشی مجرمانہ ہے، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی کراچی میں پریس کانفرنس ملک گیر ہڑتال کا انتباہ


کوئٹہ +کراچی(ڈیلی قدرت کوئٹہ)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مرکزی سیکرٹر ی جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو،پی ایم اے کوئٹہ زون کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمدشعیب نے کوئٹہ سول ہسپتال میں ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب گردی کے کیس کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کیلئے فوری طور پر بلوچستان ہائیکورٹ کے ایک حاضر سروس جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے،بلوچستان اور ملک بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں کو فوری طورپر سیف زون قرار دیکر وہاں فول پروف سیکورٹی نافذ کی جائے اور ہیلتھ کیئر سیکورٹی ایکٹ کو فوری طور پر قانون شکل دی جائے ۔یہ بات انہوں نے جمعرات کو کراچی میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی کے صدر داکٹر اسماعیل میمن ،جوائنٹ سیکرٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون ڈاکٹر فیاض مستوئی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ ڈاکٹر عبدالغفور شورونے کہا کہ بلوچستان میں ڈاکٹروں اور طبی عملے پر ہونے والے حالیہ پے درپے حملوں اور ٹارگٹ کلنگ نے پوری ملک کی طبی برادری کو ہلا کررکھ دیا ہے بلوچستان میں اسوقت طبی برادری کو بدترین عدم تحفظ اور خونی لہر کا سامنا ہے شبیر جمالی کا بے دردی سے قتل ہماری برادری کیلئے ایک بہت بڑا صدمہ ہے ایک پیرامیڈیکل اسٹاف کواس طرح گولیو ںکا نشانہ بناکر شہید کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مجرموں کو قانون کا کوئی خوف نہیں رہا ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سول ہسپتال میں ڈاکٹرماہ نور پر ہونے والا تیزاب گردی کا وحشیانہ اور بزدلانہ حملہ انسانیت سوز ہے ایک خاتون معالج کو اس طرح سرعام نشانہ بنانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اوستہ محمد کی حدود میں مسلح افراد نے گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے شدید خوف و ہرا س پھیل گیا اور ہمارے طبی عملے کو مریضوں کو چھوڑ کراپنی جانیں بچانے کیلئے پناہ لینی پڑی حکومت کی اس مجرمانہ خاموشی اور بے حسی کے خلاف کوئٹہ میں ہمارے ساتھی ڈاکٹرز سراپااحتجاج ہیں اور وہاں ہڑتال جاری ہے جب معالج خود ہی ہسپتال اور سڑک پر محفوظ نہیں ہوگا تو وہ زہنی سکون کے ساتھ مریضوں کا علاج کیسے کریگا؟۔انہوں نے کہا کہ بدترین سیکورٹی اور کیرئیر کے عدم تحفظ کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے ہمارے ملک کا طبی نظام تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے صرف سال2025میں تقریباً3800سے 4000ڈاکٹرز پاکستان چھوڑ کربیرون ملک جاچکے ہیں یہ تاریخ کی سب سے بڑی تعداد ہے جہاں ہمارے نوجوان معالجین بہتر مواقع اور سب سے بڑھ کر تحفظ کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہیںسال2025ء میں 1000سے زائد پاکستانی ڈاکٹرز اپنا ملک چھوڑ کرامریکہ چلے گئے ہمارا ٹیلنٹ ملک سے باہر جارہا ہے کیونکہ ہم انہیں یہاں تحفظ نہیں دے پارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ سروے کے مطابق ملک میں موجود55سے 60فیصد نوجوان ڈاکٹرزاسوقت پاکستان چھوڑنے کیلئے کاغذات تیا کررہے ہیں اورفعال طورپریہاں سے نکلنے کی پلاننگ کررہے ہیں اگر یہی صورتحال رہی تو پاکستان کے ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج کرنے کیلئے ڈاکٹرز ہی نہیں ملیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ شبیر جمالی کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اورانہیں عبرتناک سزا دی جائے، کوئٹہ سول ہسپتال میں ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب گردی کے کیس کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کیلئے فوری طور پر بلوچستان ہائیکورٹ کے ایک حاضر سروس جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے،بلوچستان اور ملک بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں کو فوری طورپر سیف زون قرار دیکر وہاں فول پروف سیکورٹی نافذ کی جائے اور ہیلتھ کیئر سیکورٹی ایکٹ کو فوری طور پر قانون شکل دی جائے ،اوستہ محمد ہسپتال میں فائرنگ میں ملوث مسلح شرپسندوں کو فوری طور پر گرفتارکرکے انکے خلاف انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ چ لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پی ایم اے واضح کرتی ہے کہ اگر حکومت نے ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم ، ہیلتھ ورکرشبیر جمالی کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا اور ڈاکٹر ماہ نور کے کیس کی جوڈیشل انکوائری کا حکم نہ دیا تو پی ایم اے کوئٹہ کی ہڑتال کا دائرہ کار بڑھتے ہوئے ملک گیر احتجاج کا اعلان کرنے پر مجبور ہوگی اسکے بعد پیدا ہونے والی تمام ترصورتحال اور طبی نظام کی معطلی کی مکمل ذمہ داری صرف اور صرف انتظامیہ پر عائد ہوگی

WhatsApp
Get Alert