کیا نئی آٹو پالیسی کے نفاذ سے چھوٹی گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی؟

کراچی (قدرت روزنامہ) کیا نئی آٹو پالیسی (31-2026) کے نفاذ سے چھوٹی گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی؟ اس حوالے سے آٹو سیکٹر کے ماہر کی رائے سامنے آئی ہے، جس سے حکومتی دعوے اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’باخبر سویرا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ایکسپرٹ آٹو سیکٹر مشہود علی خان نے نئی آٹو پالیسی اور بجٹ اقدامات کا تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے حکومت کی حکمتِ عملی پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔
مشہود علی خان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو اصل فائدہ گاڑیوں کی اسمبلنگ سے نہیں، بلکہ مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری سے ہوتا ہے، ماضی کی تین بڑی کمپنیوں نے نہ صرف پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کی بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کارخانوں کو فروغ دیا، جس سے مقامی طور پر پرزے بننا شروع ہوئے، نئے آنے والے برانڈز نے ابھی تک مقامی مینوفیکچرنگ کی ترقی کیلیے کوئی بڑا کام نہیں کیا، وہ صرف اسمبلنگ تک محدود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں ٹیکسز تو کم کر دیے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ امپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز اس کا فائدہ عام صارفین تک کتنا پہنچاتے ہیں، شارٹ ٹرم میں تو شاید قیمتیں کچھ کم ہوں، لیکن لانگ ٹرم میں اس کا بڑا نقصان یہ ہوگا کہ پرزے بنانے والے مقامی کارخانے بند ہو جائیں گے اور بیروزگاری بڑھے گی۔
آٹو سیکٹر کے ماہر نے رائے دی کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر اس 5 سالہ ٹیرف پالیسی پر نظرثانی کرے، کیونکہ یہ مقامی صنعتوں کیلیے شدید مشکلات پیدا کرے گی۔
آٹو پالیسی کے نفاذ سے چھوٹی گاڑی 20 سے 25 لاکھ روپے میں ملنے کے سوال پر مشہود علی خان نے بتایا کہ دنیا اور خصوصاً چین میں ایسی گاڑیاں موجود ہیں اور یہ ناممکن نہیں، لیکن اس قیمت کو برقرار رکھنے کیلیے گاڑی کے فیچرز میں بڑی کٹوتی کرنا پڑے گی، گاڑی میں جدید فیچرز جتنے زیادہ ہوں گے اس کی لاگت اتنی ہی بڑھے گی، چنانچہ اس قیمت میں آنے والی گاڑیوں میں وہ خصوصیات نہیں ہوں گی جو اس وقت مارکیٹ میں موجود گاڑیوں میں ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عام پاکستانی صارف کا اعتماد روایتی پیٹرول انجن پر ہوتا ہے، اس کا براہ راست الیکٹرک گاڑی پر جانا مشکل ہے، اس وقت جو الیکٹرک گاڑیاں بک رہی ہیں، وہ زیادہ تر امیر طبقہ خرید رہا ہے جن کے پاس پہلے سے پیٹرول اور ہائبرڈ گاڑیاں موجود ہیں۔
مشہود علی خان نے کہا کہ عام آدمی اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر گاڑی خریدتا ہے، اس لیے وہ تجربات کرنے کے بجائے اسی گاڑی کو ترجیح دیتا ہے جس کے پرزے اور ری سیل مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہوں۔
