دانہ سر بس حادثے میں 40 ہلاکتیں؛ ٹرانسپورٹ مافیا کو کھلی چھوٹ دینا صوبائی حکومت اور اداروں کی مجرمانہ غفلت ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک شدید مذمتی پریس ریلیز میں ضلع شیرانی کے علاقے دانہ سر میں پیش آنے والے المناک بس حادثے جس میں 40 کے قریب مسافروں کے ھلاکتوں اور دیگر کے زخمی ھونے پر انتہائی دکھ، افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت، زخمیوں کی جلد و مکمل صحت یابی کی دعا اور متاثرہ خاندانوں سے مکمل ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے۔
جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دانہ سر کا المناک سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ متعلقہ ٹرانسپورٹ کمپنی کی سنگین غفلت، مسافروں کی جانوں سے کھلواڑ، اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی و متعلقہ سرکاری اداروں کی مجرمانہ لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ اگر ابتدائی اطلاعات درست ہیں کہ کوچ میں اضافی پیٹرول لے جایا جا رہا تھا، گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے گئے تھے اور حفاظتی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا، تو یہ ایک مجرمانہ فعل ہے جس کی پوری ذمہ داری ٹرانسپورٹ کمپنی اور ان سرکاری اداروں پر عائد ہوتی ہے جن کی ذمہ داری گاڑیوں کی فٹنس، حفاظتی معیار، اوورلوڈنگ اور ٹرانسپورٹ قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ اگر کوچ میں آتش گیر مواد موجود تھا، گاڑی اوورلوڈ تھی یا حفاظتی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تھے تو متعلقہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی، موٹر وہیکل ایگزامینرز، ہائی وے پولیس اور دیگر ذمہ دار ادارے کہاں تھے؟ اگر قوانین پر مؤثر عملدرآمد کیا جاتا، گاڑی کی مکمل جانچ پڑتال ہوتی اور کمپنی کو ضابطوں کی خلاف ورزی کی اجازت نہ دی جاتی تو قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ اس لیے متعلقہ کمپنی اور نگرانی کے ذمہ دار سرکاری اداروں کا بھی مکمل احتساب ناگزیر ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ حادثے کی مکمل، آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، ٹرانسپورٹ کمپنی کی انتظامیہ، متعلقہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی، فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے افسران اور دیگر ذمہ دار اہلکاروں کے کردار کی جامع تحقیقات کی جائیں، اور جو بھی فرد یا ادارہ غفلت، بدانتظامی یا قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے، اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان، بالخصوص پشتونخوا کے علاقوں میں ٹرانسپورٹ کا نظام، قومی شاہراہیں، ہنگامی طبی سہولیات اور نگرانی کا پورا انتظام شدید بدانتظامی کا شکار ہے۔ نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو مسافروں کی جانوں سے کھیلنے کی کھلی چھوٹ دینا اور متعلقہ سرکاری اداروں کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی یہ مسلسل غفلت ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ عوام کی جانوں کا تحفظ ریاست کی اولین آئینی ذمہ داری ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو معقول مالی معاوضہ، متاثرہ خاندانوں کی کفالت کا مستقل بندوبست، زخمیوں کو بہترین اور مفت علاج فراہم کیا جائے، جبکہ صوبہ بھر میں تمام مسافر گاڑیوں کی فٹنس، اوورلوڈنگ، آتش گیر مواد کی غیر قانونی نقل و حمل، ڈرائیوروں کی اہلیت اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی ذمہ داریوں کا ازسرِنو سخت جائزہ لے کر مؤثر نگرانی کا نظام نافذ کیا جائے۔
بیان کے آخر میں مطالبہ کیا گیا کہ سانحہ دانہ سر کی تحقیقاتی رپورٹ مقررہ مدت کے اندر عوام کے سامنے پیش کی جائے، ٹرانسپورٹ کمپنی، متعلقہ اتھارٹیز اور دیگر ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ مستقبل میں کسی کمپنی کی غفلت اور سرکاری اداروں کی لاپرواہی کے باعث مزید قیمتی انسانی جانیں ضائع نہ ہوں۔
