بلوچستان میں نئی انتظامی حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن جاری؛ کوئٹہ دو اضلاع میں تقسیم، قلات ڈویژن ختم ‘ لسبیلہ اور خضدار کے نام سے نئے ڈویژنز قائم ‘زیارت اور ہرنائی کو سبی ڈویژن سے نکال دیا گیا ‘ مستونگ کوئٹہ ڈویژن میں شامل


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)حکومتِ بلوچستان کے محکمہ ریونیو نے صوبے کے انتظامی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تشکیلِ نو کرتے ہوئے نئے ڈویژنز، اضلاع، سب ڈویژنز اور تحصیلوں کے قیام کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ 8 جولائی 2026 کو جاری ہونے والے اس گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق، بلوچستان لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعات 5، 6 اور 6-اے کے تحت موجودہ ڈویژنل اور ضلعی حدود میں اہم تبدیلیاں اور نئی حد بندیاں کی گئی ہیں۔
کوئٹہ ڈویژن کی تنظیمِ نو اور ضلع کوئٹہ کی تقسیم
موجودہ ضلع کوئٹہ کو ریلوے ٹریک کی بنیاد پر دو نئے اضلاع، یعنی ‘کوئٹہ ایسٹ’ اور ‘کوئٹہ ویسٹ’ میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔
‘کوئٹہ ایسٹ’ کا ہیڈکوارٹر موجودہ ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ میں قائم کیا گیا ہے، جس میں صدر، سٹی اور سریاب کی سب ڈویژنز اور تحصیلیں شامل کی گئی ہیں۔
‘کوئٹہ ویسٹ’ کا ہیڈکوارٹر سریاب میں محکمہ آبپاشی (Irrigation Department) کی عمارت میں قائم کیا جائے گا۔ اس نئے ضلع میں کچلاک، بروری اور پنجپائی شامل ہوں گے۔ بروری کو نئی سب ڈویژن اور تحصیل کا درجہ دیا گیا ہے، جبکہ پنجپائی نئی سب ڈویژن اور سب تحصیل ہوگی۔
ضلع مستونگ کو قلات ڈویژن سے نکال کر کوئٹہ ڈویژن کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
ضلع پشین میں ‘طوبہ کاکڑی’ کے نام سے ایک نئی سب ڈویژن اور تحصیل قائم کی گئی ہے جس کا ہیڈکوارٹر بہرام خان میں ہوگا۔ اس کے علاوہ برشور کو اپ گریڈ کر کے سب تحصیل سے تحصیل کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
قلات ڈویژن کا خاتمہ اور نئے خضدار و لسبیلہ ڈویژنز کا قیام
سرکاری نوٹیفکیشن کے تحت موجودہ ‘قلات ڈویژن’ کا نام مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور اسے دو نئے ڈویژنز ‘خضدار’ اور ‘لسبیلہ’ میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔
نئے خضدار ڈویژن کا ہیڈکوارٹر خضدار میں ہوگا، جس میں خضدار، قلات، سوراب اور نیا قائم ہونے والا ضلع ‘وڈھ’ شامل ہوں گے۔
ضلع خضدار میں ‘باغبانہ’ اور ‘مولہ’ کے نام سے نئی سب ڈویژنز بنائی گئی ہیں، ‘زیدی’ کے نام سے نئی تحصیل قائم کی گئی ہے، اور ‘کرخ’ کو تحصیل کا درجہ دیا گیا ہے۔
ضلع ‘شہید سکندر آباد’ کا نام تبدیل کر کے دوبارہ ‘سوراب’ رکھ دیا گیا ہے۔ سب ڈویژن اور تحصیل زہری کو ضلع خضدار سے نکال کر ضلع سوراب میں شامل کر دیا گیا ہے۔
‘وڈھ’ کو ضلع کا درجہ دے دیا گیا ہے جس میں وڈھ، اورناچ اور نال کی سب ڈویژنز شامل ہوں گی (جنہیں خضدار سے الگ کیا گیا ہے)۔
نئے لسبیلہ ڈویژن کا ہیڈکوارٹر اوتھل میں ہوگا، جس میں لسبیلہ، حب اور آواران کے اضلاع شامل کیے گئے ہیں۔ خضدار کی سب تحصیل سارونا کو ختم کر کے اس کی یونین کونسل شاہ نورانی اور کلغلو کو لسبیلہ میں، جبکہ یونین کونسل سارونا کو حب کی سب ڈویژن دریجی میں شامل کر دیا گیا ہے۔
مکران اور رخشان ڈویژنز
مکران ڈویژن کے نام کے انگریزی ہجے (Spelling) سرکاری طور پر درست کر کے ‘Makuran’ کر دیے گئے ہیں۔
ضلع کیچ کی سب ڈویژن دشت کو تقسیم کر کے ‘بلنیگور’ کے نام سے نئی سب ڈویژن بنائی گئی ہے اور اسے تحصیل کا درجہ بھی دے دیا گیا ہے۔
ضلع گوادر میں اورماڑہ اور جیوانی کو نئی سب ڈویژنز بنا دیا گیا ہے۔
رخشان ڈویژن کے ضلع چاغی میں ‘چاغی’ کو سب ڈویژن اور ‘یک مچھ’ کو تحصیل کا درجہ مل گیا ہے۔ ضلع واشک میں ‘ناگ’ کے نام سے نئی سب ڈویژن بنائی گئی ہے اور اسے تحصیل کا درجہ بھی دے دیا گیا ہے۔
نصیر آباد اور سبی (Sevi) ڈویژنز میں تبدیلیاں
سبی شہر کے نام کے ہجے درست کر کے سرکاری طور پر ‘Sevi’ مقرر کر دیے گئے ہیں اور اب یہ سیوی ڈویژن کہلائے گا۔
ضلع کچھی کو نصیر آباد ڈویژن سے الگ کر کے سیوی (سبی) ڈویژن میں شامل کر دیا گیا ہے۔ ضلع کچھی میں ‘جلال خان مگسی’ کے نام سے نئی سب تحصیل بنائی گئی ہے، جبکہ مچھ اور بالاناڑی کو اپ گریڈ کر کے تحصیل کا درجہ دیا گیا ہے۔
‘لوئر ڈیرہ بگٹی’ کا نام تبدیل کر کے ‘ساؤتھ ڈیرہ بگٹی’ کر دیا گیا ہے اور اس میں ‘سنگسیلہ’ کے نام سے نئی سب ڈویژن قائم کی گئی ہے۔
ضلع جعفرآباد میں پٹوار سرکلز روجھان، گڑھی محمود اور سموں پر مشتمل ‘خان پور’ کے نام سے ایک نئی تحصیل بنائی گئی ہے۔
ضلع صحبت پور میں محمد علی پور، گڑھی اور روپہ کے موضع جات پر مشتمل ‘جیا خان’ کے نام سے نئی سب ڈویژن/تحصیل قائم کی گئی ہے۔ ضلع جھل مگسی میں ‘میرپور’ کو تحصیل کا درجہ مل گیا ہے۔
ژوب اور لورالائی ڈویژنز
ضلع شیرانی کا ضلعی ہیڈکوارٹر استانو راغہ سے منتقل کر کے ‘مانی خواہ’ کر دیا گیا ہے۔ مانی خواہ اور استانو راغہ کو نئی سب ڈویژنز اور تحصیلوں کا درجہ دے دیا گیا ہے، جبکہ ‘شینغر’ کے نام سے نئی سب تحصیل بنائی گئی ہے۔
ضلع ژوب میں ‘مرغہ کبزئی’ کو نئی سب ڈویژن اور تحصیل بنا دیا گیا ہے۔
اضلاع زیارت اور ہرنائی کو سیوی (سبی) ڈویژن سے نکال کر لورالائی ڈویژن کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
کوہِ سلیمان ڈویژن
رکھنی کے ہیڈکوارٹر کے ساتھ قائم ‘کوہِ سلیمان’ ڈویژن میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
‘اپر ڈیرہ بگٹی’ کا نام سرکاری طور پر تبدیل کر کے ‘نارتھ ڈیرہ بگٹی’ رکھ دیا گیا ہے۔
ضلع کوہلو میں ‘ہوساڑھی’ کے نام سے نئی سب ڈویژن اور سب تحصیل، جبکہ ‘جاندران’ کے نام سے نئی تحصیل قائم کی گئی ہے۔ سب ڈویژن تھل چوٹیالی (ضلع دکی) سے موضع کولاکان، ساغر (جزوی)، وہرزئی، ہوساڑھی اور نرحان کو نکال کر ضلع کوہلو میں شامل کر دیا گیا ہے۔
ضلع موسیٰ خیل کی سب ڈویژن موسیٰ خیل سے یونین کونسلز اندار پور اور راراشم کو الگ کر کے انہیں ضلع بارکھان میں شامل کیا گیا ہے، جہاں ‘راراشم’ کو نئی سب ڈویژن اور تحصیل کا درجہ دیا گیا ہے۔
محکمہ ریونیو کے سیکرٹری (ایڈمن) حبیب اللہ اور سیکرٹری کمبر دشتی کی جانب سے گورنر بلوچستان کے احکام پر جاری کردہ اس نوٹیفکیشن کے آخر میں واضح کیا گیا ہے کہ بورڈ آف ریونیو علاقائی حدود کی جانچ پڑتال کے بعد ضروری ترامیم کرنے کا مجاز ہوگا، بشرطیکہ وہ تبدیلیاں صوبائی کابینہ کے منظور شدہ فیصلوں سے مطابقت رکھتی ہوں۔

WhatsApp
Get Alert