کوئٹہ اور بلوچستان افغان مہاجرین کی جائیداد اور گاڑیوں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرنیکا فیصلہ


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)وفاقی محکمہ داخلہ کی جانب سے حکومت بلوچستان اور محکمہ داخلہ بلوچستان کو ایک اہم مراسلہ ارسال کیا گیا ہے، جس میں صوبے میں مقیم افغان مہاجرین کی جانب سے جائیداد، گاڑیوں اور دیگر اثاثوں کی خرید و فروخت سے متعلق سخت اقدامات کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدامات حکومت کی جانب سے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے اور غیر قانونی رہائش و کاروباری سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔
مجوزہ پالیسی کے تحت پہلے مرحلے میں بلوچستان میں مقیم غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین پر گھر، دکان، پلاٹ، زرعی زمین، گاڑی اور دیگر منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ پابندی وفاقی حکومت کی باضابطہ منظوری کے بعد نافذ العمل ہوگی۔ دوسرے مرحلے میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے حوالے سے بھی ایسی ہی پابندیوں پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ان کے لیے بھی جائیداد اور گاڑیوں کی خرید و فروخت سمیت کاروباری لین دین پر قانونی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
محکمہ داخلہ سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں افغان مہاجرین کی جانب سے خریدی گئی جائیدادوں، دکانوں، پلاٹوں، مکانات اور گاڑیوں کا ریکارڈ پہلے ہی مرتب کیا جا چکا ہے۔ اس ریکارڈ کو مزید جانچ پڑتال کے بعد متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، جن میں ایف آئی اے شامل ہیں، کے ساتھ شیئر کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
دوسری جانب پاک افغان سرحد، خصوصاً چمن بارڈر کے ذریعے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ یکم نومبر سے افغان خاندانوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے چمن بارڈر مخصوص اوقات میں کھولا گیا، جس کے دوران سات ہزار سے زائد افغان شہری بارڈر کراس کر کے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔ حکام کے مطابق اس وقت چمن بارڈر بنیادی طور پر افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کے لیے کھولا گیا ہے، جبکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی سرگرمیاں اور پیدل آمد و رفت تاحال معطل ہیں۔

WhatsApp
Get Alert