سانحہ مانگی: شہداء کی میتوں کے ہمراہ دھرنا کوئٹہ میں دھرنا جاری ؛ ریاست اپنے اداروں پر اعتماد کھو چکی، حکمرانوں کو صرف وسائل نظر آتے ہیں، اختر مینگل


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)زیارت کے علاقے مانگی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے خلاف شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین اور اہلِ علاقہ کا احتجاج بدستور جاری ہے۔ مظاہرین شہید پولیس اہلکاروں کی میتوں کے ہمراہ کوئلہ پھاٹک پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے ریاستی پالیسیوں، انصاف کے فرسودہ نظام اور حکمرانوں کی بے حسی پر کڑی تنقید کی ہے۔
سردار اختر مینگل نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر حکمرانوں کے بقول بلوچستان کے حالات ٹھیک ہیں تو آج لوگ سڑکوں پر دھرنوں پر کیوں بیٹھے ہیں؟ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جس ریاست میں سچ بولنا گناہ اور حق مانگنا جرم بن جائے، وہ ریاست زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔ انہوں نے عدالتی اور تفتیشی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی انصاف کا نظام موجود ہے تو سانحہ زیارت سمیت دیگر دلخراش واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کیوں نہیں کرائی جاتیں؟

ان کا کہنا تھا کہ یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ ریاست اپنے ہی اداروں اور فیصلوں پر اعتماد نہیں کر رہی۔ بلوچستان میں لیویز کو ختم کرکے پولیس میں ضم کرنے سمیت عوام پر کئی تجربات کیے گئے، مگر یہ تمام تجربات مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
اختر مینگل نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں اگر ایک شخص کا قتل ہو جائے تو حکومتیں جوابدہ بنتی ہیں، لیکن یہاں اتنے بڑے سانحات اور خونریزی کے باوجود کسی ایک شخص نے بھی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے مختلف کمیٹیاں اور نمائندے بھیجے جاتے ہیں مگر مسائل کا مستقل حل فراہم نہیں کیا جاتا۔ اگر موجودہ حکمران واقعی عوام کے غم میں شریک ہوتے تو اپنے عہدوں اور اسمبلی نشستوں سے استعفے دے کر متاثرین کے ساتھ سڑک پر کھڑے ہوتے۔ غیرت، حیا اور عوامی احساسِ ذمہ داری نہ تو خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی قرض پر لی جا سکتی ہے، یہ انسان کے کردار کا حصہ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو بلوچستان کے وسائل، گیس، معدنیات اور قدرتی ذخائر تو نظر آتے ہیں، مگر یہاں کے عوام کی محرومیاں اور بہتا ہوا خون نظر نہیں آتا۔ ہمیشہ بلوچ اور پشتون عوام کے حقوق اور جانوں کو نظرانداز کرکے صرف یہاں کے وسائل سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔

سربراہ بی این پی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام پر ظلم و ناانصافی کا سلسلہ آج کا نہیں بلکہ ریاست کے قیام کے روز سے جاری ہے۔ ماضی میں بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عوام کی آواز کو دبانے کے لیے مسلح گروہوں اور غیرقانونی ہتھکنڈوں کا سہارا لیا گیا۔ انہوں نے سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سمیت متعدد سانحات میں بے گناہ لوگوں کا خون بہایا گیا لیکن متاثرین کو آج تک انصاف نہ مل سکا۔
انتہائی جذباتی انداز میں انہوں نے کہا کہ سانحہ زیارت کے متاثرین کم از کم اپنے پیاروں کی لاشیں تو تدفین کے لیے حاصل کر سکے ہیں، لیکن بلوچستان کے ہزاروں خاندان آج بھی ایسے ہیں جنہیں اپنے عزیزوں کا کوئی سراغ نہیں ملا اور وہ سالوں سے اپنے پیاروں کی واپسی یا محض ان کی لاشوں کے ہی منتظر ہیں۔
اپنے خطاب کے آخر میں سردار اختر مینگل نے دھرنے کے شرکاء کو اپنے مؤقف اور حق پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ بی این پی نے اسلام آباد میں سانحہ ہنہ، زیارت اور دیگر واقعات پر ہر فورم پر آواز بلند کی ہے۔ متاثرین اب جو بھی احتجاجی لائحہ عمل طے کریں گے، بلوچستان نیشنل پارٹی ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert