پشتونوں کو لاوارث نہ سمجھا جائے، قوم نے متحد ومنظم ہونا ہوگا، نواب ایاز خان جوگیزئی
آپ انصاف نہیں کرینگے، نفرتیں،کداوتیں جنم دینگے تو حالات اور خراب ہوں گے،موجودہ حالات ہنہ اوڑک نہ زیارت کے لیے ہیں بلکہ تمام وطن میں یہ طوفان منڈلا رہا ہے،پشتون قوم بے اتفاقی سے گریز کریں

وزیرستان سے سبق حاصل کرنا ہوگا، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے معدنی خزانوں کو دریافت کیا جارہا ہے، کسی کو اختیار نہیں کے ہمارے معدنیات کو بریف کسی میں لیجا کر دنیا کو نمونہ پیش کرے
پشتون وطن اس کے وسائل کے پر واک واختیار ہمارے عوام کا ہوگا، ہر معاہدہ یہاں کے عوام سے کرنا ہوگا، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز، اشتعال انگیز مواد کے ذریعے قوم کے مابین نفرتیں پھیلانے کے عمل کو ترک کیا جائے
کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے زیارت مانگی سانحہ جس میں 27پولیس اہلکار شہید ہوئے کیخلاف کوئٹہ کے کوئلہ پھاٹک پر جاری عوام کی جم غفیر پر مبنی احتجاجی دھرنے سے اپنے خطاب کا آغاز خوشحال خان خٹک کے شعر سے کیا جس کا اردو ترجمہ
”کاش میرا بیٹا افغان قوم کی عزت و وقار کا دفاع کرتے ہوئے جان دیتا،
بجائے اس کے کہ آج وہ بستر مرگ پر پڑا ہو (عزت و وقارسے محروم) اور موت کی جانب بڑ ھ رہا ہو“۔
نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے اُن تمام ماؤں کو داد تحسین پیش کیا جنہوں ایسے بچوں کو جنم دیا جنہوں نے آج اپنے سروں کا نذرانہ وطن کی دفاع میں قربان کیئے۔ یہ ووطن ہمیں کسی نے خیرات میں نہیں دیا، ہم جس وطن پر ہزاروں سال سے آباد ہیں اس وطن کی دفاع ہمارے اکابرین نے بڑے طاقتور قوتوں کا مقابلہ کیا اور اس کی دفاع کی ہے۔ آج پشتون اپنی بے اتفاقی کی وجہ سے موجودہ سنگین حالات سے دوچار ہیں۔ آج ہم نے احمد شاہ بابا اور میروائس نیکہ کا راستہ ترک کیا اور صورتحال ہمارے سامنے ہیں۔ احمد شاہ بابا اعلان کرتے کہ لشکر تیار کرے اور تمام ہندوستان پر انہوں نے قبضہ کرلیااور آج تک ہم احمد شاہ بابا کے نام اور تاریخ پر فخر کرتے ہیں۔آج پشتون قوم کو جو حالات درپیش ہیں یہ تو بنیادہے اور اس سے سخت حالات آرہے ہیں جو آگ پھیل رہی ہے اس سے کوئی نہیں بچ سکے گا اگر کسی کا خیال ہے کہ میرے گھر کے دیوار بڑے ہیں، خاردار تاریں بچھا کر کرنٹ چھوڑ کر کیمرے نصب کیئے ہیں اورپائیدار بڑے گیٹس ہیں جب حالات کنٹرول میں نہیں رہتے تو پہلے وہ لوگ جنہیں آپ کی پالیسیوں نے بھوک وافلاس کا شکاربنا رکھا ہوتا ہے وہی سرمایہ داروں کو ہاتھ ڈالیں گے۔ آج سے دس یا پندرہ سال پہلے اسی ملک میں وزیر ستان میں یہ سب کچھ ہوا لیکن پھر بھی ہم نے کوئی تجربہ حاصل نہ کیا۔ ہمارے وطن میں جو حالات ابھی گزر رہے ہیں یہی حالات وزیرستان کی بربادی کی بنیاد تھی۔نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ آج سوشل میڈیا پر نوجوان جس انداز میں نفرت انگیز، اشتعال انگیز مواد کے ذریعے قوم کے مابین نفرتیں پھیلارہے ہیں اس کی روک تھام کرنی ہوگی۔ میں سیاسی پارٹیوں سے کہتا ہوں کہ کچھ وقت کے لیے اپنے سیاسی آئین ومنشور کو معطل کرے جب تک ہمارے وطن میں امن آئیں اور متحد ہوکر امن کے لیے کوشاں ہو۔ نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ جو صورتحال اس وقت جاری ہے یہ کسی مخصوص علاقے کے لیے نہیں ہے نہ ہنہ اوڑک کے لیے نہ زیارت کے لیے ہیں بلکہ تمام وطن شیرانی سے لیکر پھر چمن تک اور تمام پشتونخوا وطن میں یہ طوفان آنے والا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ متحد ہوکر اتفاق کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے بے اتفاقی سے گریز کریں جب ان ظالموں سے وطن پاک ہو پھر ہر ایک کا اپنا نظریہ، فکر، سیاست ہے چاہے وہ جہاں جائے اس کا جمہوری حق ہے۔نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ 1947میں یہ ملک آزاد ہوا لیکن پشتون آج بھی غلام ہے، بلوچ بھائی آج کس بنیاد پر لڑرہے ہیں انہوں نے پہلے ہی آزادی کی جنگ شرو ع کی کیونکہ وہ بھی غلام ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت بڑا وطن اور اس میں قدرتی نعمتوں سے اس قوم کو نوازا ہے اور ہمارے اکابرین نے بڑی طاقتور قوتوں سے لڑ کر اس کا دفاع کیا اور اسے ہمارے حوالے کیا۔ آج ہمارے وطن میں جدید آلات، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے زیر زمین، پہاڑوں سے معدنی خزانوں کو دریافت کیا جارہا ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے یا بدقسمتی کے ہمارے آباؤ اجداد نے جو وطن ہمارے حوالہ کیا وہ اُن معدنی خزانوں سے بھرے ہیں کہ آج یہ وطن اور اس کے وسائل ہمارے واک واختیار میں نہیں۔ اس کا اختیار اس پشتون قوم اور اس کے عوام کا ہونا چاہیے۔ جدید ٹیکنالوجی، وسائل کی ضرورت ہوسکتی ہے لیکن اس کے مالکانہ حقوق ہماری قوم کا ہوگا۔ یورپ،امریکہ، چائنا، دنیا کی کوئی بھی کمپنی آنا چاہتی ہے آجائے لیکن انہوں نے معاہدہ اس وطن کے مالکان کے ساتھ کرنا ہوگا، اپنے شیئرز معلوم کرنے ہوں گے کہ میں یہاں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہوں معاہدہ یہ ہوگا کہ زمین، وسائل اس قوم کے ہوں گے اور اتنا حصہ آپکا اور اتنا کمپنی کا ہوگا۔ لیکن اس قوم نے یہ اختیارکسی کو نہیں دیا کہ ہمارے پہاڑوں، وسائل،معدنیات کے نمونے بریف کیس میں لیجا کر ٹرمپ اور دنیا کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ کیا آپ نے اس وطن اور اس قوم کو اتنا لاوارث سمجھا ہے۔کہ آپ نے قوم کو اتنا نظر انداز کیا اور اس وطن کے فیصلے اب آپ کرینگے؟ یہ جنگ کی شروعا ت ہے۔ میں نے پہلے کہا تھاکہ اس وطن پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں وہ جنگ یہی ہے کہ آج ہمارے نوجوانوں کی نعشیں یہاں پڑی ہیں۔ ہمیں موجودہ حالات میں سیکھنا ہوگا۔ میں تمام سیاسی پارٹیوں، قبیلوں کو کہتا ہوں کہ ہم پشتون ہے اور یہ قبیلے صرف ہماری شناخت کے لیے ہیں یہ ہمارا شریک وطن ہے اور یہ سرزمین ماں کی حیثیت رکھتی ہے اور اپنی ماں کی حفاظت کرنا ہر نوجوان،بوڑھے، کمزور، زور آور کا فرض ہے۔ جس طرح ژالہ باری سے بچاؤ کے لیے زمیندار اپنے باغات فصلات پر جالی ڈال دیتے ہیں اس طرح کی ژالہ باری ہم پر گولیوں کی صورت ہمارے انسانوں پر آرہی ہے۔جو حالات آرہے ہیں اس کے لیے متحد ہوکر اتفاق واتحاد لازمی ہے۔ آج کا یہ دھرنا یہ جذبہ عوام کی بڑی طاقت ہے اور اُن لوگوں کے لیے پیغام ہے کہ آج پشتون قوم اپنے وطن، وسائل کی تحفظ کے لیے اپنے سرومال کی قربانی کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام لوگوں نے متحد ہونا ہوگا اور اپنے وطن کے بچاؤ اور مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہماری بے اتفاقی سے دشمن کو فائدہ ہوگا اور وہ وسوسے پیدا کرینگے کہ یہ قوم متحدنہیں ہے۔ گزشتہ روز یہاں وزیر اعظم اور آرمی چیف آئے اس مہنگائی میں اتنے اخراجات اور فوٹو سیشن کی کیا ضرورت تھی، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی یہ سب ممکن تھا یورپ سے بیٹھ کر بھی یہاں کسی اجلاس میں شرکت یا بات کی جاسکتی ہے اور آپ کے آنے سے ہمارے عوام کی کوئی تسلی نہیں ہوئی۔ آج انصاف کی مثالیں کفار میں موجود ہیں لیکن ہمارے ہاں صرف جہالت، ظلم، جبر کی مثالیں موجود ہیں۔ نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ سیاست کو نہیں چھوڑا جائے گا، یہ سرے سے سیاسی مسئلہ ہے، جب آپ کے وطن پر قبضہ کیا جارہا ہے یہ تو سیاسی مسئلہ ہے۔ لیکن میں اپنی سیاسی لیڈر شپ، سیاسی پارٹیوں سے اپیل کرتاہوں کہ سیاسی آئین ومنشور کو کچھ وقت کے لیے سائیڈ پر رکھ لیں تمام قبیلوں کے سرکردہ لوگوں کہتا ہوں جو اپنے مابین اختلافات،رنجشیں رکھتے ہیں اُن سے کہتا ہوں کہ آپ کا دشمن آپ کے اپنے نہیں بلکہ آپ کا دشمن کوئی اور ہے جنہوں نے آئی ایم ایف سے قرضہ لیا اور آپ کو صرف مقروض بنایا۔ آج جب یہاں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے وہ آئی ایم ایف کے ساڑھے تین لاکھ روپے قرض دار ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ لیکر ایک صوبے کے ترقی وتعمیر پر خرچ کیا گیا تو پھر یہاں تو اس طرح کی تنظیمیں پیدا ہوں گی اور اس کے ذمہ دار بھی آپ ہیں۔ جب آپ انصاف نہیں کرینگے، نفرتیں،کداوتیں جنم دینگے تو حالات اور خراب ہوں گے۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے تمام شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہدا کے لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی اور کہا کہ یہ انتہائی سخت مرحلہ ہے لیکن ہر پیدا ہونیوالی شے نے موت کا ذائقہ چکنا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں متحد ہونے، اتفاق واتحاد برقرار رکھنے اور اپنے وطن اور اس کے وسائل کی تحفظ کی توفیق عطاء فرمائیں۔
