آن لائن فراڈ کے خلاف پاکستان دنیا کا سب سے کم محفوظ ملک قرار
عالمی انڈیکس میں 112 ممالک کی فہرست میں آخری نمبر پر، لکسمبرگ اور ڈنمارک محفوظ ترین ممالک بن گئے

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)ڈیجیٹل فراڈ اور سائبر خطرات سے متعلق جاری ہونے والی ایک تازہ ترین عالمی رپورٹ میں پاکستان کو آن لائن فراڈ کے خلاف دنیا کا سب سے کم محفوظ ملک قرار دے دیا گیا۔ بین الاقوامی شناختی تصدیقی ادارے ‘سم سب’ اور عالمی شماریاتی ادارے ‘اسٹیٹسٹا’ کے اشتراک سے جاری کردہ ’گلوبل فراڈ انڈیکس‘ کے مطابق ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف مزاحمت میں پاکستان 112 ممالک کی فہرست میں سب سے آخری نمبر پر آیا ہے۔
اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان مسلسل دوسرے سال بھی ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف مزاحمت کے عالمی انڈیکس میں سب سے نچلی پوزیشن پر برقرار ہے، یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے سائبر جرائم کے مقابلے میں سکیورٹی اقدامات ناکافی ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ اس عالمی انڈیکس کو تیار کرنے کے لیے ماہرین نے 4 بنیادی کلیدی عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لیا جن مین ملک میں فراڈ کی مجموعی شرح، سائبر کرائم کے خلاف حکومتی اقدامات اور پالیسیاں، شہریوں کی ڈیجیٹل وسائل تک رسائی، اور ملک کی معاشی صورتحال شامل ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ تحقیق کے نتائج میں پاکستان میں ڈیجیٹل فراڈ کی شرح دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، رپورٹ میں پاکستان کے اندر سائبر کرائم کی روک تھام، ای گورننس اور سکیورٹی قوانین کے مؤثر نفاذ میں نمایاں اور سنگین کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جو شہریوں کو آن لائن لٹیروں کے رحم و کرم پر چھوڑ رہی ہیں، تاہم اس رپورٹ میں جہاں پاکستان کو آخری نمبر پر رکھا گیا ہے، وہیں دنیا کے چند ممالک کو آن لائن فراڈ کے خلاف بہترین سیکیورٹی فراہم کرنے پر محفوظ ترین قرار دیا گیا۔
بتایا جارہا ہے کہ محفوظ ترین ممالک میں لکسمبرگ، ڈنمارک، فن لینڈ اور ناروے سرفہرست ہیں، جب کہ کم محفوظ ممالک کے طور پر پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا، نائیجیریا اور پڑوسی ملک بھارت بھی دنیا کے کم محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔
