ریاست پاکستان آبنائے ہرمز کھلوا سکتی ہے تو کمشیر بند ہے اسے بھی کھلوائے: بلاول بھٹو

مظفر آباد(قدرت روزنامہ) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ریاست پاکستان امریکا ایران کے درمیان امن قائم کرکے آبنائے ہرمز کھلوا سکتی ہے تو کمشیر بند ہے اس کو بھی کھلوائے۔
آزادکشمیر کی تحصیل ڈڈیال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ آزادکشمیر کی تاریخ کے سب سے اہم انتخابات ہیں، یہ انتخابات ریاست پاکستان کے لیے ایک امتحان ہے، جس طرح کشمیر کے عوام کی آواز پہنچانی چاہیے تھی ہم سیاستدانوں نے وہ کام نہیں کیا،جب سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے تو غیر جمہوری قوتیں آجاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج جو حالات ہیں ہر کشمیری اور ہر پاکستانی پریشان ہے ، بے نظیر بھٹو نے سکھایا ہے کہ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خوان گرے گا، ہم سمجھتے ہیں کہ آزادکشمیر کے عوام کے تمام مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں نے مجھے خط لکھا تو میں نے ٹروتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن قائم کرنے کی تجویز پیش کی اور یہ کمیشن قائم کیا جائے تو احتجاج کرنے والوں سے کہوں گا کہ احتجاج روک دیں تاہم میری تجویز پر ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والے غلط ہوں گے لیکن سزا پورے کشمیر کو مل رہی ہے، جس نے غلطی کی ہے اس کو پکڑو ، سزا دو ، چند لوگوں کے جرم کی سزا سب کو کیوں دے رہے ہو؟
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں عام کشمیریوں کو کاروبار اور معمولات میں کوئی پریشانی نہ ہو، ریاست پاکستان امریکا ایران کے درمیان امن اور آبنائے ہرمز کھلوا سکتی ہے تو کمشیر بند ہے اس بھی کھلوائے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ مودی کو گجرات کا قصائی کہا تھا جس پر بھارت نے میرے سر کی قیمت لگائی تھی، ہم کشمیریوں کی زمین پر بھارت کے قبضے کی کوشش ناکام بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں اور ووٹ کا فیصلہ آئین ساز ادارے کریں گے، دو جماعتیں ہیں ایک پیپلزپارٹی اور دوسری ن لیگ، اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے، جو دوسری جماعت ہے وہ تو راولاکوٹ ، کوٹلی اور میرپور کو کمشیر کا حصہ ہی نہیں مانتی۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف کو وضاحت کرنی چاہیے کیا وفاقی حکومت کی پالیسی وہی ہے جو وزیردفاع کہہ رہا ہے ، ایک دوسرا وفاقی وزیر کہتا ہے کہ کشمیر کی 12 نشستیں ہماری جیب میں ہیں، جب ان کی سوچ یہی ہوگی تو ان کو کوئی پروا نہیں ہوگی کہ کوٹلی، راولا کوٹ سے کون کامیاب ہوگا۔
