(ن)لیگ مت بھولے کہ وفاق میں حکومت لیکن پھر بھی گلگت بلتستان میں اکثریت نہیں ملی
لاہور (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی حامد میر نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ (ن) لیگ مت بھولے کہ وفاق میں حکومت لیکن پھر بھی گلگت بلتستان میں اکثریت نہیں ملی، جو جی بی میں ہوا وہی اگر آزاد کشمیر الیکشن میں ہوا تو ن لیگ کے سیاسی زوال کو بریک لگانا مشکل ہوگا، وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ حامد میر ایکس پر روزنامہ جنگ میں لکھا گیا اپنا کالم شیئر کیا جس کے اقتباس کے مطابق آج شائد شہباز شریف بھی یہی سمجھتے ہیں کہ انہیں اقتدار سے نکالنا بہت مشکل ہے کیونکہ انکا کوئی متبادل نہیں لیکن وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔
وہ مولانا فضل الرحمٰن جن کے کندھوں پر چڑھ کر شہباز شریف مُکّے لہرایا کرتے تھے آج شہباز شریف کے ساتھی انہی مولانا کی ایسی تیسی کر رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کے جس بیان کی مذمت کی جا رہی ہے وہ بیان مولانا نہ دیتے تو بہتر تھا لیکن کل کو مسلم لیگ (ن) پر برا وقت آیا تو شہباز شریف کو انہی مولانا فضل الرحمٰن کے کندھے دوبارہ یاد آئیں گے۔
مسلم لیگ (ن) مت بھولے کہ وفاق میں حکمران ہوتے ہوئے بھی اسے گلگت بلتستان میں اکثریت نہیں ملی۔ اگر آزاد کشمیر کے الیکشن میں بھی مسلم لیگ (ن) کیساتھ وہی کچھ ہوا جو گلگت بلتستان میں ہوا تو پھر اسکے سیاسی زوال کو بریک لگانا مشکل ہو گا۔
مسلم لیگ (ن) مت بھولے کہ وفاق میں حکمران ہوتے ہوئے بھی اسے گلگت بلتستان میں اکثریت نہیں ملی۔ اگر آزاد کشمیر کے الیکشن میں بھی مسلم لیگ (ن) کیساتھ وہی کچھ ہوا جو گلگت بلتستان میں ہوا تو پھر اسکے سیاسی زوال کو بریک لگانا مشکل ہو گا ، وقت بدلتے دیر نہیں لگتی https://t.co/XWTd488CpB
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) July 16, 2026
حامد میر نے مزید لکھا کہ وہ ایسا سیاسی بوجھ تو نہیں بنتی جا رہی جسے اتار پھینکنا ضروری ہو جائیگا؟ مسلم لیگ ن کے زوال کی ایک بڑی وجہ پارٹی کی اندرونی لڑائیاں بنیں گی جو اب سامنے آنیوالی ہیں۔
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے معاملات بھی کافی خراب ہیں جو دونوں کیلئے نقصان کا باعث بنیں گے۔ پھر بھی کسی کو کچھ سمجھ نہ آئے تو فیصل واؤڈا کی حکومت پر تنقیدکا ایک تنقیدی جائزہ کافی ہے۔ نجانے انہیں آج کے حکمران کل کو کسی اپوزیشن الائنس کے کنٹینر یا کسی جیل میں اکٹھے کیوں نظر آ رہے ہیں؟
