شہباز حکومت 16 ارب ڈالر سے زائد قرضہ لینے کے باجود اپنا ہدف پورا نہیں کر پائی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان نے مالی سال 2025-26 کے دوران غیر ملکی قرضوں کی مد میں مجموعی طور پر 16.2 ارب ڈالر حاصل کیے جس میں چین کی جانب سے 1.7 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی ری فنانسنگ بھی شامل ہے۔ یہ مالی سال 30 جون 2026 کو اختتام پذیر ہوا تاہم حکومت اپنے مقررہ ہدف تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے قرضوں اور گرانٹس کی مد میں 19.92 ارب ڈالر حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن ہدف کے مقابلے میں 3.72 ارب ڈالر کم وصول ہوئے۔ جون 2026 کے دوران غیر ملکی قرضوں کی بڑی رقم کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے موصول ہوئی، جن میں ایشیائی ترقیاتی بینک سب سے بڑا قرض دہندہ رہا جس نے آخری مہینے میں 953.74 ملین ڈالر جاری کیے۔
اقتصادی امور ڈویژن کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں حکومت پاکستان نے چین کے ترقیاتی بینک سے 1.7 ارب ڈالر اور لندن کے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک سے 203.33 ملین ڈالر کی ری فنانسنگ حاصل کی۔ اس طرح مجموعی طور پر 1.903 ارب ڈالر کے غیر ملکی کمرشل قرضے حاصل کیے گئے۔ حکومت نے کمرشل قرضوں کی مد میں 3 ارب ڈالر کا منصوبہ بنایا تھا تاہم یہ ہدف 1.1 ارب ڈالر کی کمی سے حاصل نہ ہوسکا۔
گزشتہ مالی سال کے دوران چین نے 392 ملین ڈالر کی گارنٹی بھی فراہم کی۔ دوطرفہ شراکت دار ممالک سے مجموعی طور پر 1.355 ارب ڈالر موصول ہوئے، جن میں سعودی عرب کا حصہ سب سے زیادہ رہا۔ سعودی عرب نے 1.01 ارب ڈالر فراہم کیے، جس میں زیادہ تر رقم سعودی آئل فیسلٹی کی شکل میں موخر ادائیگی کی بنیاد پر شامل تھی۔ اس سہولت کے تحت مارچ 2026 تک ہر ماہ 100 ملین ڈالر فراہم کیے گئے۔ پاکستان نے درمیانی مدت کے لیے آئل فیسلٹی دوبارہ شروع کرنے کی درخواست بھی کی ہے تاہم معاملہ تاحال زیر غور ہے۔
دیگر دوطرفہ ممالک میں چین نے 108 ملین ڈالر، ڈنمارک نے 90 ملین ڈالر، فرانس نے 71.68 ملین ڈالر، جرمنی نے 13.35 ملین ڈالر، جاپان نے 26.69 ملین ڈالر، کوریا نے 9.49 ملین ڈالر، کویت نے 26.06 ملین ڈالر جبکہ امریکا نے 0.64 ملین ڈالر فراہم کیے۔
کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کی جانب سے مالی سال 2025-26 میں مجموعی طور پر 5.03 ارب ڈالر کی رقم جاری کی گئی۔ اس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کا حصہ 1.772 ارب ڈالر، ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کا 123.85 ملین ڈالر، عالمی بینک کے آئی بی آر ڈی قرضے 516 ملین ڈالر، آئی ڈی اے قرضے 1.5 ارب ڈالر، اسلامی ترقیاتی بینک 68.13 ملین ڈالر، آئی ڈی بی شارٹ ٹرم قرضہ 1.01 ارب ڈالر، آئی ایف اے ڈی 25.5 ملین ڈالر، اوپیک فنڈ 0.11 ملین ڈالر اور اقوام متحدہ 0.9 ملین ڈالر شامل ہیں۔
