حکومت نے کفایت شعاری اقدامات دوبارہ لاگو کرنے پر غور شروع کردیا، جلد نافذ ہونے کا امکان

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے نتیجے میں عالمی و قومی سطح پر پیدا ہونے والے معاشی بحران کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے سرکاری اخراجات میں مزید کٹوتی اور کفایت شعاری کے اقدامات کو آئندہ ہفتے سے دوبارہ لاگو کرنے پر غور شروع کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطح کی مشاورت کے بعد سرکاری اخراجات کو مزید محدود کرنے کا پلان ترتیب دینے کی ہدایت کردی ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن آئندہ چند دنوں میں جاری کیے جانے کا امکان ہے، ایران پر امریکی حملوں اور خطے کی صورتِ حال بگڑنے کے باعث پیدا ہونے والے معاشی خطرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کیے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے رواں مالی سال کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد کابینہ ڈویژن نے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے مراسلہ وزارتِ خزانہ کو بھیج دیا، کفایت شعاری پالیسی کے تحت تمام وفاقی وزارتوں اور محکموں میں گزشتہ 3 سال سے خالی تمام آسامیاں ختم کر دی جائیں گی، نئی آسامیوں کی تخلیق پر عائد پابندی کو سختی سے برقرار رکھا جائے گا۔
اس حوالے سے مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ رواں مالی سال ہر قسم کی نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی جاری رہے گی، تمام محکموں کے لیے نئی مشینری اور جدید آلات کی خریداری پر پابندی برقرار رہے گی، حکومتی خرچے پر ملک سے باہر جا کر علاج کروانے پر مکمل پابندی رہے گی، جبکہ وزراء اور افسران کے غیر ضروری بیرونی دوروں پر بھی قدغن برقرار رہے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت کے بعد اب وزارتِ خزانہ ان تمام اقدامات کا باقاعدہ اور تفصیلی نوٹیفکیشن آئندہ ہفتے کے آغاز میں ہی جاری کر دے گی، جس کے بعد تمام سرکاری محکموں کے جاری اخراجات میں فوری کٹوتی کی جائے گی۔
