کوئٹہ میں بڑھتی بدامنی پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی تشویش، ہزار گنجی پولیس ناکوں پر مزدوروں سے مبینہ رشوت وصولی کا الزام، جرائم کی روک تھام میں ناکامی پر شدید تنقید

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے کوئٹہ اور گردونواح میں بڑھتی ہوئی چوری، ڈکیتی اور لوٹ مار کی وارداتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہزار گنجی، مشرقی و مغربی بائی پاس، تختانی بائی پاس، سریاب سرکل اور دیگر علاقوں میں شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پارٹی کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مزدور، تاجر، دکاندار اور عام شہری دن دہاڑے مسلح افراد کے ہاتھوں لوٹے جا رہے ہیں، جبکہ گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، موبائل فون اور نقدی چھیننے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ ہزار گنجی سے اختر آباد تک پولیس ناکوں پر مزدوروں سے مبینہ طور پر 500 سے 1500 روپے تک رشوت وصول کی جاتی ہے اور رقم نہ دینے والوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ پارٹی نے محمود آباد میں ایک رہائش گاہ پر مسلح ڈکیتی کی واردات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے کہا کہ کئی علاقوں میں پولیس گشت نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ بعض تھانوں میں متاثرین کو ایف آئی آر درج کرانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پارٹی نے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ بڑھتے ہوئے جرائم، مبینہ رشوت خوری اور پولیس کی کارکردگی کا فوری نوٹس لیا جائے، غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے، پولیس گشت بڑھایا جائے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
