بلوچستان میں کرپشن، رشوت خوری اور بدامنی عروج پر ہے، تمام جمہوری قوتیں اور 24 کروڑ عوام ماورائے آئین اقدامات کا راستہ روکیں: عبدالرحیم زیارتوال

آئینی ترامیم سے میڈیا اور عدلیہ کا گلا گھونٹا گیا، ایس آئی ایف سی کے ذریعے صوبائی خودمختاری کا خاتمہ ناقابلِ قبول ہے: پشتونخوامیپ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے بولان میڈیکل یونیورسٹی کے نئے طلباء کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ہمہ جہت بحرانوں کی بنیادی وجہ سیاسی، جمہوری اور آئینی اصولوں سے انحراف، اداروں کے اختیارات کی پامالی اور ملک پر بالواسطہ یا بلاواسطہ آمریت کا تسلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک غیر جمہوری قوتوں نے آئین کو توڑا، ون یونٹ مسلط کیا اور ملک کو دو لخت کیا، جبکہ آج بھی فارم 47 کے ذریعے مسلط کردہ پارلیمنٹ سے سلیکشن کی بنیاد پر ملک کے اداروں اور آئین کو پامال کیا جا رہا ہے۔
عبدالرحیم زیارتوال نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آزاد میڈیا کا تصور ختم اور 27ویں ترمیم سے عدلیہ کا گلا گھونٹا گیا ہے۔ اسی طرح ایس آئی ایف سی (SIFC) کے نفاذ کے ذریعے صوبائی خودمختاری کا خاتمہ کرتے ہوئے معدنیات، جنگلات، زراعت اور دیگر شعبوں میں مداخلت کو قانونی حیثیت دی گئی، جبکہ این ایف سی ایوارڈ میں غیر آئینی مداخلت کر کے صوبوں کے حصص میں کٹوتی کی گئی۔ بلوچستان کی دگرگوں صورتحال پر انہوں نے کہا کہ صوبے کی شاہراہیں غیر محفوظ ہیں، روزگار کے دروازے بند ہیں اور کرپشن، سفارش، اور اقربا پروری اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ایسے ناکام اور نااہل نمائندوں سے بہتری کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ غلط داخلہ و خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے ملک عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں حکومتی سرپرستی میں جاری بدامنی کا فوری خاتمہ کیا جائے، شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے اور عوام کو روزگار، معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات دی جائیں۔ زیارتوال نے تمام سیاسی و جمہوری پارٹیوں اور ملک کے 24 کروڑ عوام پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر غیر جمہوری اور ماورائے آئین قوتوں کا راستہ روکیں تاکہ ملک کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert