عوام کیلئے مہنگائی کا ’تحفہ‘ اور بیوروکریٹس کیلئے نیا الاؤنس!
حکومت نے سخت معاشی اقدامات کے باوجود بیوروکریسی کے لیے 1.8 ارب روپے کے خصوصی الائونس کی منظوری دیدی، تقریباً یہ بنیادی تنخواہ کے کم از کم 100 فیصد کے برابر ہوگا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ نے اعلیٰ بیوروکریسی کے لیے چار سال کے دوران دوسرے بڑے خصوصی الاؤنس کی منظوری دے دی، جس کے لیے باقاعدہ 1.8 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ انگریزی اخبار ٹریبیون کے مطابق کابینہ نے جس نئے الاؤنس کی منظوری دی ہے اس کا نام ’آل پاکستان سروسز کیڈر پوسٹس پیرٹی الاؤنس‘ رکھا گیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے جون 2022ء میں بیوروکریسی کو دیئے گئے 150 فیصد ایگزیکٹو الاؤنس کے بعد یہ دوسرا بڑا خصوصی الاؤنس ہے، 1.8 ارب روپے کے اس الاؤنس کا اطلاق یکم جولائی 2026ء سے ہوگا، جس کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ بنیادی تنخواہ کے کم از کم 100 فیصد کے برابر ہوگا۔
بتایا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 240 کے تحت آل پاکستان سروسز بشمول پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 17 سے 22 کے وہ افسران جو اسلام آباد اور وفاق میں تعینات ہیں، اس الاؤنس کے اہل ہوں گے، کابینہ نے 150 فیصد ایگزیکٹو الاؤنس کو 2017ء کی تنخواہوں کے بجائے 30 جون 2026ء کی موجودہ بنیادی تنخواہ سے منسلک کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے، جس سے افسران کی مرعات میں مزید بڑا اضافہ ہوگا۔
People get price hike- Bureaucrats to get Rs1.8b new allowance!
The federal cabinet has approved another special allowance for top bureaucracy – the second in four years – and sanctioned Rs1.8 billion budget in the middle of a further extension in austerity measures and a 7%…
— Shahbaz Rana (@81ShahbazRana) July 22, 2026
رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ بیوروکریسی کو یہ اضافی مالی مراعات دینے کا جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ صوبوں، عدلیہ اور نیب یا ایف بی آر جیسے خصوصی اداروں میں افسران کو ملنے والے الاؤنسز زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے افسران وفاق میں کام کرنے سے کتراتے ہیں، تاہم ناقدین اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پے سٹرکچر میں جامع اصلاحات لانے کے بجائے ایسے جزوی فیصلوں سے سرکاری شعبے کے دیگر گروپس میں عدم اطمینان پھیلے گا اور وہ بھی ایسے ہی مطالبات سامنے لائیں گے۔
دوسری طرف وفاقی کابینہ نے مالی سال 2026/27ء کے لیے بھی کفایت شعاری کے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت نئی گاڑیوں کی خرید، نئے پائیدار سامان کی خرید، بیرونِ ملک سرکاری اخراجات پر علاج، اور غیر ضروری غیر ملکی دوروں پر پابندی برقرار رہے گی، سرکاری اجلاسوں میں صرف سنگل ڈش اور چائے بسکٹ سرو کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، کابینہ نے فنانس ڈویژن کی ‘آسٹریٹی کمیٹی’ کو یہ اختیار بھی دے دیا ہے کہ وہ کیس ٹو کیس بنیادوں پر ان پابندیوں میں استثنیٰ دے سکتی ہے، ماضی میں اسی استثنیٰ کے تحت بیوروکریٹس اور وزراء کیلئے گاڑیوں کی خرید اور دفاتر کی آرائش و تزئین کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔
