دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کے پی حکومت کہاں کھڑی ہے؟

پشاور(قدرت روزنامہ)خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے مسلسل خطرے کے باوجود وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں انسداد دہشت گردی کے معاملے پر اتفاق نہ ہوسکا، جس کے بعد ایک بنیادی سوال پھر سامنے آگیا ہے کہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے کی حکومت قومی سلامتی کے معاملے پر وفاق کے ساتھ مکمل تعاون سے کیوں گریزاں ہے؟
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دہشت گردی سے متعلق بعض نکات پر اختلاف برقرار رہا۔ اپوزیشن کے مذاکرات کاروں کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی کہ نیشنل ایکشن پلان اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق معاملات پر تحفظات موجود تھے، جبکہ حکومتی مؤقف تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان واضح اور مؤثر تعاون ضروری ہے۔
یہ معاملہ اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ خیبرپختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔ پولیس، سکیورٹی فورسز اور عام شہری مسلسل دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا، دہشت گردی کے خلاف ریاستی اداروں سے تعاون اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
اس کے برعکس مذاکرات کے دوران انسداد دہشت گردی کے معاملات پر اتفاق نہ ہونا اور اسی وقت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے اسلام آباد لانگ مارچ برقرار رکھنے کا اعلان سیاسی ترجیحات پر بحث کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کے مارچ کی قیادت کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ پی ٹی آئی قیادت نے بھی مارچ کا فیصلہ برقرار رکھنے کی تصدیق کی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک کو دہشت گردی اور سرحدی سلامتی کے چیلنجز کا سامنا ہے، سیاسی کشیدگی میں اضافہ قومی ترجیحات کو متاثر کرسکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی پی ٹی آئی سے لانگ مارچ واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ملک دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے متحد ہوسکتا ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ اگر خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو صوبے کی اہم ترجیح سمجھتی ہے تو وفاقی حکومت کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیوں نہیں ہو رہا؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ ریاست اور عوام کا مشترکہ معاملہ ہے، اس لیے سیاسی اختلافات سے قطع نظر وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون بنیادی ضرورت ہے۔
پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اس کا لانگ مارچ آئینی اور پرامن احتجاج کا حق ہے اور اس کے مطالبات بھی آئینی دائرے میں ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی مارچ کو اسی حق کے تحت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ سیاسی مطالبات کے لیے مذاکرات کا راستہ موجود ہے اور سڑکوں پر احتجاج کے بجائے سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی مارچ کے باوجود مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
خیبرپختونخوا کی صورتحال میں اصل چیلنج یہ ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں، پولیس اور سکیورٹی اداروں کا تحفظ اور عام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر جاری رہیں۔ اگر وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون کمزور ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر انسداد دہشت گردی کی مجموعی حکمت عملی پر پڑ سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں سیاسی قیادت کے سامنے بنیادی سوال یہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر اتفاق رائے کیسے پیدا کیا جائے اور کیا سیاسی احتجاج کو اس قومی ترجیح سے الگ رکھتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کیے جاسکتے ہیں؟
