بلوچستان کا 95 فیصد حصہ نو گو ایریا بن چکا، حکومت مراعات کی بندر بانٹ میں مصروف: شاہراہیں سنسان، اشیائے ضروریہ کے بحران کا خدشہ؛ ٹرانسپورٹرز گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہے ‘ جے یو آئی بلوچستان
فروری 2024 کے سیاسی تجربے کے نتائج پوری قوم کے سامنے ہیں، آواز اٹھانے پر 3 ایم پی او کے تحت گرفتاریاں کی جا رہی ہیں: اعلامیہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت) جمعیت علماء اسلام بلوچستان نے صوبے کی سنگین اور غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کی بے حسی، غفلت اور لاتعلقی سمجھ سے بالاتر ہے۔ صوبے میں آئے روز شہری قتل کیے جا رہے ہیں، جبکہ حکومت مکمل طور پر بے بس اور حالات پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔
صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بین الصوبائی شاہراہیں سنسان ہو چکی ہیں، جس کے باعث آئندہ چند دنوں میں آٹے، چینی، ادویات، ایندھن اور دیگر اشیائے ضروریہ کے شدید بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تاجر برادری داد رسی نہ ہونے پر سراپا فریاد ہے جبکہ ٹرانسپورٹرز درجنوں گاڑیاں نذرِ آتش کیے جانے کے بعد مزید نقصان کے خوف سے اپنی گاڑیاں گھروں میں کھڑی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ آج صوبے میں نہتے مسافر، خواتین اور معصوم بچے بھی محفوظ نہیں رہے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ چھن چکا ہے۔
جے یو آئی نے حکومتی ترجیحات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نازک حالات میں بھی حکومت کی تمام تر توجہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے فنڈز، وزارتوں، مراعات اور اختیارات کی بندر بانٹ پر مرکوز ہے، جبکہ انتظامی و حکومتی امور عملاً مفلوج ہو چکے ہیں۔ فروری 2024 میں کیے گئے سیاسی تجربے کے تباہ کن نتائج آج پوری قوم کے سامنے ہیں۔ صوبے کا تقریباً 95 فیصد حصہ عملاً نو گو ایریا بن چکا ہے، حکمران اپنے سخت حفاظتی حصار میں ہیں جبکہ عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ جب ملک کے دیگر صوبے ترقی اور سرمایہ کاری کی راہ پر گامزن ہیں، تو بلوچستان بدامنی، خونریزی اور معاشی تباہی کی بدترین تصویر بنا ہوا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اگر کوئی شہری یا سیاسی و سماجی رہنما اس ابتر صورتحال پر آواز بلند کرتا ہے تو اسے 3 ایم پی او کے تحت گرفتاریوں اور سائبر کرائم کے نوٹسز جیسے ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جمعیت علماء اسلام نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے کو جرم بنانے اور سیاسی انتقام کے ذریعے معاملات مزید نہیں چلائے جا سکتے۔ صوبے کی اکثریتی نمائندہ جماعت ہونے کے ناطے جے یو آئی عوام کی مزید تباہی خاموشی سے نہیں دیکھ سکتی اور اس المناک صورتحال سے پورے ملک کو آگاہ کرے گی۔ اگر حکومت نے فوری طور پر امن و امان کی بحالی اور شاہراہوں کے تحفظ کے لیے مؤثر عملی اقدامات نہ کیے تو حالات سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔
