بحیرہ احمر میں حوثیوں کا سعودی عرب کے 2 آئل ٹینکرز پر حملہ
آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب میں بھی خطرہ، دنیا کی 25 فیصد تیل سپلائی معطل ہونے کا خدشہ

صنعاء(قدرت روزنامہ)یمن کے ایران سے منسلک حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر سے گزرنے والے دو سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے اعلان کیا کہ یہ حملہ سعودی عرب کے خلاف عائد کردہ بحری ناٹک بندی کی خلاف ورزی پر کیا گیا، دوسری جانب سعودی عرب نے بھی اپنے ایک بحری جہاز پر حملے اور آگ لگنے کی تصدیق کر دی۔
عالمی میڈیا کے مطابق حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں بتایا کہ اینسیلیا اور لئیلا نامی دو سعودی آئل ٹینکرز کو بالسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، ان حملوں کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی، فورسز نے تقریباً 10 دیگر بحری جہازوں کو اپنے راستے بدلنے اور واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا۔
سعودی آفیشل نیوز ایجنسی ایس پی اے نے سعودی جنرل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر کی تصدیق کی، سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اینسیلیا پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں جہاز کے آگے والے حصے میں آگ لگ گئی، سعودی حکام اور یو کے ایم ٹی او دونوں نے تصدیق کی ہے کہ تمام عملہ مکمل طور پر محفوظ ہے اور آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، سعودی عرب نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی بحری قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا فیصلہ 20 جولائی کو سامنے آیا تھا، یمنی حکومت کی جانب سے ایرانی طیارے کو لینڈنگ سے روکنے کے لیے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول صنعاء ایئرپورٹ پر بمباری کی گئی تھی، جس کے جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ’اینٹ کا جواب پتھر سے‘ دینے کا عزم ظاہر کیا۔
بتایا جارہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث پہلے ہی آبنائے ہرمز کی بندش کا سامنا ہے، ایسے میں بحیرہ احمر کا یہ تنازع دنیا کے لیے نئے خطرات پیدا کر رہا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سعودی عرب بحیرہ احمر اور باب المندب کے ذریعے تیل برآمد کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اگر باب المندب بھی بلاک ہوتا ہے تو دنیا کے کل تیل اور گیس کی سپلائی کا 25 فیصد حصہ مکمل طور پر بند ہو سکتا ہے، جس سے عالمی سطح پر انرجی کا بدترین بحران جنم لے سکتا ہے۔
