شاہراہوں پر ٹرکوں کی لوٹ مار اور آتشزدگی ظلم کی انتہا، حکومت تحفظ فراہم کرنے میں ناکام: سیاسی و مذہبی رہنما

ملکی استحکام کے لیے سیاسی اختلافات بھلا کر مثبت سوچ اپنانا ہوگی: مولانا عبدالواسع، رحمت صالح، مولانا ہدایت الرحمن اور داؤد شاہ کاکڑ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت) سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ملک کے استحکام و برابری کے لیے ہم سب نے اپنا کردار ادا کرناہوگا کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ پنجاب شاہراہ پر تاجروں کے مال بردار ٹرکوں کو سرعام دن دیہاڑوں باغات میں لے جاکر وہاں لوٹ مار کر کے بعد میں گاڑیوں کو نظر آتش کرنا ایک ظلم کی انتہا ہے حکومت عوام کو تحفظ دینے کی بجائے قومی شاہرائوں کو تحفظ نہیں فرااہم کیا جاسکے ‘کسی کو نیچا دکھانے سے جمہوریت بدنام ہوتا ہے ہمیں چاہئے کہ ہم اس طرح سو چ کو بدلنا ہوگا اور آگے سوچنا ہوگا جب تک ہم ایک دوسرے کو سیاسی نظر سے نہیں دیکھتے اس وقت تک ہم کامیابی کی طرف نہیں جاسکتے ‘یہ بات جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر سینیٹرمولانا عبدالواسع‘ نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری رکن صوبائی اسمبلی میررحمت صالح بلوچ‘جماعت اسلامی کے صوبائی امیر و رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن اور پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر داؤد شاہ کاکڑ نے ملک کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہی انہوںنے کہا کہ صوبے کی مخدوش صورتحال کا زمہ دار موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہے بلوچستان میں امن امان کا نام ونشان نہیں ہے اب تو عوام کو تحفظ دینے تو دور کی بات کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ پنجاب شاہراہ پر تاجر کے ساتھ ساتھ عام عوام بھی سفر سے گریز کرنے لگے ہیں دن دیہاڑے عوام کے ٹرکوں کو لوٹاجارہا ہے گاڑیوں کو نظر آتش کر کے ڈرائیوں کو شہید کرنا کس قانون میں ہے حکومت رٹ نام کوئی چیز نہیں ہے کیا حکومت بلوچستان اس سارے صورتحال سے لاعلم ہے ان کو سب پتہ ہے کہ کون کررہا ہے یہ ان کی بس سے باہر ہوتے جارہے ہیں‘ انہوں نے کہاکہ وقت کا تقاضا ہے کہ ماضی کو بھول کر آگے سوچنا ہوگا کیونکہ اس وقت ملک مختلف بحرانوں کے ساتھ معیشت کا بھی شکار ہے اس صورت میں اگر ہم آج بھی جموری سوچ کو نہیں اپنائیں گے تو پھر مزید بھی ہم بحرانوں کا شکار ہوسکتے ہیں ہمیں چاہئے کہ ہم ملکر سیاسی اختلاف ضرور رکھیں لیکن ملک کے استحکام کے لیے سوچنا ضروری ہے بلکہ ہم نے اس صورت میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے مثبت سو چ کو اپنانا ہوگا منفی سوچ سے ملک کا نقصان اور اپنے آپ کو برباد کرنے کے مترادف ہے انہوں نے کہاکہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نے ملک کو آگے لے جانے کے لیے ایک دوسرے کا کندھا استعمال کرنے کی بجائے اور انصاف کے لیے پیش کرنا ہوگا انہوں نے کہاکہ ملک کے استحکام و برابری کے لیے ہم سب نے اپنا کردار ادا کرناہوگا کسی کو نیچا دکھانے سے جمہوریت بدنام ہوتا ہے ہمیں چاہئے کہ ہم اس طرح سو چ کو بدلنا ہوگا اور آگے سوچنا ہوگا جب تک ہم ایک دوسرے کو سیاسی نظر سے نہیں دیکھتے اس وقت تک ہم کامیابی کی طرف نہیں جاسکتے

WhatsApp
Get Alert