جیل سے بچنے کیلئے موت کا ڈرامہ رچانے والا ’مردہ‘ پکڑا گیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)چین کے صوبے ہونان کی پولیس نے حال ہی میں ایک ایسے انوکھے کیس کی تفصیلات جاری کی ہیں جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔
’سی‘ نامی شہری کو جب پولیس نے شراب کے نشے میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے روکا، تو ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ وہ اس سے قبل بھی دو بار بغیر لائسنس کے نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرتے پکڑا جا چکا ہے۔
تیسری بار پکڑے جانے پر اسے شدید خدشہ تھا کہ اس بار اسے سیدھا جیل بھیج دیا جائے گا۔
ضمانت پر رہائی کے دوران سزا سے بچنے کے لیے اس نے ایک انتہائی خوفناک اور انوکھا منصوبہ بنایا۔ اس نے اپنے گھر والوں کو منایا کہ وہ اس کی جعلی موت اور جنازے میں ان کی مدد کریں۔
منصوبے کے تحت انہوں نے پہلے سے ایک تابوت خریدا، گھر میں ادویات کی خالی بوتلیں بکھیر دیں اور اس نے سانس روکنے کے ساتھ ساتھ جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کولنگ آلات کا استعمال کیا تاکہ لگے کہ اس کی موت ادویات کی زیادتی سے ہوئی ہے۔
جنازے کے دوران اس کی ماں اور دادی نے اس کے چہرے کو کپڑے سے ڈھانپ دیا اور پڑوسیوں کو بتایا کہ ادویات کے اثر سے اس کا چہرہ مسخ ہو گیا ہے۔
جس دن موت کا ڈرامہ رچایا گیا، اسی دن اسے جلدی میں دفنا دیا گیا لیکن جب تابوت کو قبر میں اتارا جا رہا تھا، تب تک وہ شخص چپکے سے دوسرے صوبے کی طرف فرار ہو چکا تھا۔
بدقسمتی سے اس کا یہ خوفناک ڈرامہ زیادہ دن نہ چل سکا، پولیس کو کچھ باتوں پر شدید شک ہوا۔
تابوت اس کی مبینہ موت سے پہلے ہی خرید لیا گیا تھا، گھر والوں نے موت کے وقت نہ ایمبولینس کو بلایا اور نہ ہی پولیس کو اطلاع دی۔ نہ تو کوئی ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہوا تھا اور نہ ہی اس کی میت کو جلانے کا کوئی سرکاری ریکارڈ تھا۔
پڑوسیوں کے شک اور سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج سے تصدیق ہو گئی کہ وہ زندہ ہے۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا، جہاں عدالت نے اسے 5 ماہ قید اور 20 ہزار یوآن جرمانے کی سزا سنائی جبکہ مجرم کو چھپانے اور سچ چھپانے پر اس کی والدہ اور دادی کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
