بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر حکومتی عملداری ختم ہوچکی ہے، 5 روز میں سیکورٹی فراہم نہ کی گئی تو احتجاج میں شدت لائیں گے: انجمن تاجران بلوچستان اور ٹرانسپورٹرز کی مشترکہ پریس کانفرنس

مستونگ میں مزدوروں کے قتل کی شدید مذمت، ٹرانسپورٹرز، ڈرائیوروں اور تاجروں کے جان ومال کے تحفظ کی مکمل ضمانت دی جائے، مشترکہ پریس کانفرنس


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان، آل بلوچستان پرچون گڈز ایسوسی ایشن، آل پاکستان مزدا ٹرک ایسوسی ایشن، بس کوچ ایسوسی ایشن، کارگو ایسوسی ایشن اور کراچی گڈز کیرئیر ایسوسی ایشن کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی۔ اس موقع پر صدر مرکزی انجمن تاجران بلوچستان عبدالرحیم کاکڑ نے مستونگ میں مزدوروں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی، کوئٹہ، تفتان، دالبندین اور دیگر قومی شاہراہوں پر فوری طور سیکورٹی فراہم کی جائے اور ٹرانسپورٹرز، ڈرائیوروں اور تاجروں کے جان ومال کے تحفظ کی مکمل ضمانت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اغواء، بھتہ خوری، لوٹ مار اور ٹرکوں کو جلانے میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، قومی شاہراہوں پر مستقل پٹرولنگ، فوری رسپانس سسٹم اور محفوظ تجارتی راہداری قائم کی جائے اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔
عبدالرحیم کاکڑ نے مزید کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے قومی شاہراہوں پر گاڑیوں اور باؤزر کو نذر آتش کیا جارہا ہے، قومی شاہراہوں پر ڈرائیوروں کو اغواء کرکے بھتہ وصول کیا جارہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی شاہراہوں پر امن وامان کا مسئلہ صرف ٹرانسپورٹروں کا نہیں بلکہ عوام کا مسئلہ ہے۔ آج کوئٹہ سے کراچی تک سفر کرنا گویا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے اور فضائی سفر بھی عام آدمی کے دستر سے باہر ہوچکا ہے۔ صدر مرکزی انجمن تاجران نے کہا کہ بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر حکومتی عملداری ختم ہوچکی ہے، ہم نے اندورن بلوچستان پرچون کے سامان کی ترسیل معطل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود حکومت اور متعلقہ اداروں نے کوئی موثر اقدام نہیں اٹھایا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ آئندہ 5 روز میں قومی شاہراہوں پر سیکورٹی کے انتظامات نہیں کئے گئے تو احتجاج میں شدت لائیں گے۔

WhatsApp
Get Alert