حج 2027 پرائیویٹ حج سکیم کو نئے بحران کا سامنا


لاہور(قدرت روزنامہ)حج 2027 پرائیویٹ حج سکیم کو سعودی عرب کی نئی ٹائم لائن اور کوٹہ پالیسی کے باعث ایک نئے بحران کا سامنا ہے۔ حج آرگنائزرز کا کہنا ہے کہ رقوم کی منتقلی کی آخری تاریخ قریب آ چکی ہے، جبکہ کوٹہ اور کلسٹرز سے متعلق کئی معاملات تاحال حل طلب ہیں۔
ذرائع کے مطابق سعودی حکام کی مقررہ ٹائم لائن کے تحت 14 اگست 2026 تک رقوم کی منتقلی کا عمل مکمل کرنا ضروری ہے، تاہم پرائیویٹ حج سکیم سے وابستہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اس ہدف کا حصول مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق وزارت مذہبی امور نے پرائیویٹ حج سکیم کے لیے 40 فیصد کوٹہ دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم حج آرگنائزرز کا مؤقف ہے کہ ہر کلسٹر کے لیے 2 ہزار عازمین کا کوٹہ مقرر کرنے پر اصرار کیا جا رہا ہے، جس پر انہیں تحفظات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں 25 کلسٹرز کو مجموعی طور پر 50 ہزار عازمین کا کوٹہ دینے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ باقی 20 ہزار عازمین کے کوٹے کے لیے 10 اگست تک نئی درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ ان درخواستوں کے لیے 30 کروڑ روپے پیڈ اپ کیپیٹل کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔
حج آرگنائزرز کا دعویٰ ہے کہ اس نئی پالیسی کے باعث کئی ایسی کمپنیاں متاثر ہو رہی ہیں جو گزشتہ دو دہائیوں سے حج آپریشنز کا حصہ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض پرانے آپریٹرز کے نام کلسٹرز سے نکال دیے گئے ہیں، جبکہ متعدد کلسٹرز اب تک اپنے شراکتی ڈھانچے اور ڈائریکٹرز کی حتمی منظوری بھی مکمل نہیں کر سکے۔
مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ برس بعض پرائیویٹ حج آپریٹرز نے 2025 کے کوٹے کے مطابق سعودی عرب کو رقوم منتقل کی تھیں، لیکن موجودہ مجوزہ کوٹہ اس سے بھی کم ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جس سے مالی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
تاہم وزارت مذہبی امور کی جانب سے اس حوالے سے ان دعوؤں پر تاحال کوئی تفصیلی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ امکان ہے کہ آئندہ چند روز میں کوٹہ، کلسٹرز اور رقوم کی منتقلی کے طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

WhatsApp
Get Alert