محسن نقوی کیا کہنا چاہتے ہیں کہ وہ دو سالوں سے جھک مار رہے تھے؟ شیخ روحیل اصغر

آپ یہ تاثر دینا چاہ رہے ہیں کہ آپ کے وزیراعظم اور ان کی ٹیم کام نہیں کرسکتی، جب آپ اقتدار میں ہوتے ہیں تو بڑا سوچ سمجھ کر چلنا پڑتا ہے اور بڑا سوچ سمجھ کر بولنا پڑتا ہے؛ مسلم لیگ ن کے رہنماء کی گفتگو


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی عہدے پر رہتے ہوئے اس نوعیت کا بیان دینا مناسب نہیں تھا کیونکہ ایسا مؤقف اپوزیشن کی جانب سے آنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے نظام پر اس انداز میں تنقید کرنا خود حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے، اس سے اتنی بڑی کنفیوژن ہوگئی کہ آپ کا کیا کہنے کا مطلب ہے کہ آپ نے ڈھائی سال جھک ماری ہے؟۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ ہمارے ہاں ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ جس کا جو کام ہے وہ نہیں کر رہا، اور جس کا جو کام نہیں وہی کرتا جا رہا ہے، میں محسن نقوی کو ذاتی طور پر اچھی طرح جانتا ہوں اور ان کے ساتھ نیازمندی بھی ہے، تاہم میرے نزدیک موجودہ حالات میں اس نوعیت کا بیان دینا مناسب نہیں تھا، اگر واقعی یہ مؤقف ہے کہ موجودہ نظام مکمل طور پر ناکام یا کولیپس کر چکا ہے تو پھر اخلاقی طور پر اس نظام سے علیحدگی اختیار کرنی چاہیے۔


ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص حکومت میں بھی رہے، اپنا عہدہ بھی برقرار رکھے اور پھر اسی نظام کو ناکام قرار دے تو اس سے عوام میں شدید کنفیوژن پیدا ہوتی ہے، اس طرح کے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت، وزیراعظم اور ان کی ٹیم اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، اگر نظام واقعی ناکام تھا تو پھر حکومت گزشتہ ڈھائی سال سے کیا کرتی رہی؟ ایسے بیانات سے یہی پیغام جاتا ہے کہ حکومت اپنی ہی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔
شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ اقتدار میں رہنے والوں کو ہر بیان انتہائی سوچ سمجھ کر دینا چاہیے کیونکہ حکومتی شخصیات کے الفاظ کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں، محسن نقوی حکومت کی ایک اہم شخصیت ہیں، اس لیے انہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ اسی ٹیم کا حصہ ہیں اور ان کے بیانات سے پوری حکومت کا مؤقف متاثر ہوتا ہے، حکومت کے ذمہ دار عہدیداروں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو حکومتی صفوں میں اختلاف یا کمزوری کا تاثر پیدا کریں، اس سے نہ صرف سیاسی ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ عوام میں بھی غیر یقینی صورتحال جنم لیتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert