پیپلز پارٹی اور ن لیگ پاکستانی عوام کو کیا بیوقوف سمجھتے ہیں، مصطفیٰ نواز کھوکھر
ایک طرف تو آپ حکومت پر تنقید کر رہے ہیں اور اسی حکومت کے سارے مراعات بھی حاصل کریں، فارم 47 کے ووٹوں سے اگر زرداری صدر منتخب ہوجائیں تو وہ ٹھیک ہے اور حکومت غلط ہے؛ سابق سینیٹر کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماء سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں جماعتیں ایک طرف ایک دوسرے پر تنقید کرتی ہیں اور دوسری طرف اسی نظام سے حاصل ہونے والی مراعات سے بھی بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
اس سلسلے میں مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پاکستانی عوام کو بے وقوف نہ سمجھیں، اگر فارم 47 کے ووٹوں کے ذریعے آصف علی زرداری صدر منتخب ہو جائیں تو وہ درست مانا جاتا ہے لیکن اسی نظام کے تحت بننے والی حکومت کو غلط قرار دینا دوہرا معیار ہے، فارم 47 کے ثمرات صرف مسلم لیگ ن ہی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی بھی سمیٹ رہی ہے، پھر بلاول بھٹو زرداری کو شکایت کس بات کی ہے؟۔
پیپلز پارٹی اور ن لیگ پاکستانی عوام کو کیا بیوقوف سمجھتے ہیں، ایک طرف تو آپ حکومت پر تنقید کر رہے ہیں اور اسی حکومت کے سارے مراعات بھی حاصل کریں، فارم 47 کے ووٹوں سے اگر زرداری صدر منتخب ہو جائیں تو وہ ٹھیک ہے اور حکومت غلط ہے
مصطفیٰ نواز کھوکھر pic.twitter.com/b7a8bl9JX8
— Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan (@TTAP_OFFICIAL) August 4, 2026
ان کا کہنا ہے کہ اس حکومت کو صرف سیاسی نہیں بلکہ بھرپور ادارہ جاتی حمایت بھی حاصل رہی ہے، ماضی میں عمران خان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہیں ون پیج کی حمایت حاصل ہے، لیکن موجودہ حکومت کو ون پیج کے ساتھ ساتھ ڈنڈا بھی حاصل رہا، تاہم موجودہ حکومت کا بوجھ زیادہ عرصہ تک اٹھانا ممکن نہیں، اگر آئندہ ایک ماہ کے دوران 28ویں آئینی ترمیم سامنے آتی ہے تو تمام بڑی سیاسی جماعتیں مل کر اس کے حق میں ووٹ دیں گی۔
اسٹیبلشمنٹ اس ناکام حکومت کا بوجھ بہت زیادہ دیر اٹھا کر نہیں چلے گی، ہم سنا کرتے تھے کہ عمران خان کو ون پیج حاصل ہے لیکن اس حکومت کو ون پیج کے ساتھ ساتھ ڈنڈا بھی حاصل ہوا، مصطفیٰ نواز کھوکھر@mustafa_nawazk pic.twitter.com/gbvlifu5SS
— Ali Tanoli (@alitanoli889) August 3, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیاسی جماعتوں کو جو اسکرپٹ دیا جاتا ہے، وہ اس سے ایک لفظ بھی آگے یا پیچھے نہیں بولتیں، جب گلگت بلتستان میں حکومت پیپلز پارٹی کے حوالے کی گئی تھی، اسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ آزاد کشمیر مسلم لیگ ن کے حصے میں جائے گا، ان انتخابات کا نہ ووٹر سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی عوامی خواہشات سے ہے، ملک میں حقیقی جمہوری عمل کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قومی سطح پر جامع بحث کی ضرورت ہے، تاہم عوامی اعتماد سے محروم حکومت اور غیر نمائندہ اسمبلی کی جانب سے اس حساس معاملے کو اٹھانے سے تنازعہ پیدا ہونا فطری امر ہے، بہتر ہوگا پہلے شفاف انتخابات کرائے جائیں تاکہ سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں اس معاملے پر عوام سے مینڈیٹ حاصل کریں، اس کے بعد اس بحث کو آگے بڑھایا جائے۔
