’پی پی اگر بات نہیں مانتی تو کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے کا فیصلہ ہو سکتا ہے‘

کراچی(قدرت روزنامہ) سابق وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ اگر پی پی نئے صوبوں کی بات نہیں مانتی تو کراچی کو وفاق کے تحت چلانے کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔
سابق وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے بھی وزیر داخلہ محسن کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ محسن نقوی نے جو بات کی وہ درست ہے، دیر آئے، درست آئے۔ سسٹم کی ناکامی اور نئے صوبوں کی بات سیاسی جماعتوں کی نا اہلی اور کرپشن کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ ن لیگ کے چند وزرا کے علاوہ نظام نہ چلنے کی بات کی کسی نے تردید نہیں کی۔
کراچی میں اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین میں ترمیم کر لی جائے، جیسے 26 ویں اور 27 ویں ترمیم ہوئی، اس کے بعد جو چاہے صوبہ بنائیں۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی نئے صوبوں کی مخالفت صرف اپنی جاگیر اور حکومت بچانے کے لیے ہے۔ اگر پی پی بات نہیں مانتی تو پھر کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانے کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔
اے پی پی رہنما نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی درمیان کا راستہ مان لیتی ہے تو، کراچی با اختیار وفاقی فنڈز ڈویژن بن سکتا ہے۔ صرف کراچی ہی نہیں، بلکہ حیدرآباد، لاڑکانہ، میرپورخاص اور نواب شاہ ڈویژن بھی ہونے چاہئیں۔ ہر ڈویژن کے شہریوں کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ وہاں کی حکومت چلائیں۔
مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کا حال بے حال ہے، اس کا نظام ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ دیہی سندھ میں بھی لوگ نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ حکومت سندھ کو کسی شہر کے منتخب میئر کو ہٹا کر کمشنر یا ایڈمنسٹریٹر لگانے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے، حقیقی ووٹوں سے ان کا میئر آئے تو ٹھیک لیکن ایسے نہ آئے جیسے کراچی میں آیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے پہلے اپنے صوبوں سے لوکل گورنمنٹ کے نظام کو ختم کیا۔ ان تینوں سیاسی جماعتوں سے عوام کے لیے کسی فیض یا خیر کی امید نہیں۔
