تحریک انصاف نے عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاست نہ کرنے کی یقین دہانی کروادی
ہم عمران خان کی صحت کے حوالے سے تسلی چاہتے ہیں، ہماری عمران خان سے ملاقات کروائی جائے، اس معاملے پر فیملی، ڈاکٹر اور پارٹی سیاست نہیں کرے گی، ہم اس کی گارنٹی دیتے ہیں؛ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاست نہ کرنے کی یقین دہانی کروادی گئی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو آرمی چیف، وزیر اعظم اور چیف جسٹس ذمہ دار ہوں گے، عمران خان پاکستان کی واحد امید ہیں، ہم عمران خان کی صحت کے حوالے سے تسلی چاہتے ہیں، عمران خان سے ملاقات کروائی جائے، اس معاملے پر فیملی، ڈاکٹر اور پارٹی سیاست نہیں کرے گی، ہم اس کی گارنٹی دیتے ہیں، عمران خان سے ملاقات نہ کروائی گئی تو جمعرات کی رات 10 بجے ملک بھر کے ہر چوک کو ڈی چوک بنا دیا جائے گا۔
🚨اہم سوال کا اہم جواب
سوال: اگر جیل میں عمران خان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار کون ہو گا ؟
سہیل آفریدی نے آرمی چیف ، وزیراعظم اور چیف جسٹس کو ذمہ دار ٹھرا دیا pic.twitter.com/lJKXclyFE2
— Ahmad Hassan Bobak (@ahmad__bobak) August 10, 2026
انہوں نے کہا کہ جس وقت عمران خان کو گرفتار کیا گیا تھا، وہ بالکل فِٹ اور صحت مند تھے، آج ان کی صحت جس حالت تک پہنچی ہے، وہ تمہاری قید کے دوران خراب ہوئی ہے، عمران خان کی صحت بگڑنے کے ذمہ دار وہ تمام لوگ ہیں جو انہیں اس صورتحال میں رکھنے کے ذمہ دار ہیں، 27 ستمبر کو ہونے والے لانگ مارچ کی کال اپنی جگہ برقرار ہے، تاہم اس سے قبل عمران خان سے ملاقات اور ان کی صحت سے متعلق مطالبات کے لیے احتجاجی اقدامات کیے جا رہے ہیں، کل تمام پارلیمنٹیرینز سپریم کورٹ کے باہر جمع ہوں گے اور وہاں دھرنا دیا جائے گا، مطالبہ ہے کہ چیف جسٹس عمران خان کی صحت کے حوالے سے فیصلہ جاری کریں اور ان کی فیملی اور ذاتی ڈاکٹروں کو عمران خان سے ملاقات اور طبی معائنے کی اجازت دی جائے۔
پارٹی کی لیڈرشپ اور عمران خان کی فیملی گارنٹی دیتی ہے کہ اگر ملاقات ہوجائے تو وہ باہر کوئی سیاسی بات نہیں کرے گی، عمران خان کی فیملی اور ذاتی معالج کو عمران خان سے ملنے دیا جائے، سہیل آفریدی pic.twitter.com/ja0gUpmmti
— Shahid Jan (@shahidjan612) August 10, 2026
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت کے معاملے کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ان کے خاندان اور ڈاکٹرز کو ان تک رسائی ملنی چاہیے، عدالتوں کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں کیونکہ اگر ججز بھی کسی کے آلہ کار بن کر فیصلے کریں گے تو پھر ملک اور نظام انصاف کس سمت جائے گا؟ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی کال دیتے وقت عمران خان کی فیملی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا کیونکہ خاندان غیر سیاسی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی پوری قیادت اور اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے، لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل نہیں کی گئی اور یہ پروگرام اپنی جگہ برقرار ہے، جمعرات کو تمام پارلیمنٹیرینز اڈیالہ جیل جائیں گے اور عمران خان سے ملاقات کی کوشش کریں گے، اگر ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو اڈیالہ جیل کے سامنے ہی دھرنا دیا جائے گا۔
سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ اگر منگل اور جمعرات کے احتجاج اور مطالبات کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ کروائی گئی تو جمعرات کی رات 10 بجے ملک بھر میں احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا اور ہر شہر کے اہم چوکوں کو ڈی چوک میں تبدیل کرنے کی کال دی جائے گی، پارٹی قیادت عمران خان کی صحت، ان کے علاج اور اہل خانہ و ذاتی معالجین تک رسائی کے معاملے پر واضح اقدامات چاہتی ہے، موجودہ صورتحال میں احتجاج کا مقصد عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات کا ازالہ اور ان تک قانونی و طبی رسائی یقینی بنانا ہے۔
