اگر27 ستمبر کا لانگ مارچ رکوانا ہے تو عمران خان کے ساتھ ہماری ملاقات کروا دیں

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر27 ستمبر کا لانگ مارچ رکوانا ہے تو عمران خان کے ساتھ ہماری ملاقات کروا دیں۔ انہوں نے جیونیوز کے سینئر صحافی حامد میر کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر 27 ستمبر کو لانگ مارچ رکوانا ہے تو عمران خان کے ساتھ ہماری ملاقات کروا دیں اگر خان صاحب ہمیں کہہ دیں کہ لانگ مارچ نہیں کرنا تو پھر ہم رک جائیں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ علیمہ خان غیر سیاسی ہیں انکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن عمران خان کی بہن ہونے کی وجہ سے ہمارے لئے بہت اہم ہیں لانگ مارچ کی تاریخ پر اگر انکے کوئی تحفظات ہیں تو ہم انشا اللہ دور کر دینگے ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کا پہلا انٹرویو جس میں انہوں نے ہرسوال کا جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کہتے ہیں کہ بات چیت سے راستہ نکالیں تو ضرور بات چیت کریں گے، عمران خان کے کہنے پر کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
یہ اس لئے ڈر رہے ہیں کہ اگر ملاقات کرائی گئی تو عمران خان کہیں گے کہ آپ ضرور لانگ مارچ کریں، کیونکہ میں جو باہر ہوں رہی اندر ہوں۔ ہمیں اس قدر دیوا رسے لگایا گیا کہ ہم نے خود لانگ مارچ کی کال دے دی۔ مزید برآں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو آرمی چیف، وزیر اعظم اور چیف جسٹس ذمہ دار ہوں گے، عمران خان پاکستان کی واحد امید ہیں، ہم عمران خان کی صحت کے حوالے سے تسلی چاہتے ہیں، عمران خان سے ملاقات کروائی جائے، اس معاملے پر فیملی، ڈاکٹر اور پارٹی سیاست نہیں کرے گی، ہم اس کی گارنٹی دیتے ہیں، عمران خان سے ملاقات نہ کروائی گئی تو جمعرات کی رات 10 بجے ملک بھر کے ہر چوک کو ڈی چوک بنا دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جس وقت عمران خان کو گرفتار کیا گیا تھا، وہ بالکل فِٹ اور صحت مند تھے، آج ان کی صحت جس حالت تک پہنچی ہے، وہ تمہاری قید کے دوران خراب ہوئی ہے، عمران خان کی صحت بگڑنے کے ذمہ دار وہ تمام لوگ ہیں جو انہیں اس صورتحال میں رکھنے کے ذمہ دار ہیں، 27 ستمبر کو ہونے والے لانگ مارچ کی کال اپنی جگہ برقرار ہے، تاہم اس سے قبل عمران خان سے ملاقات اور ان کی صحت سے متعلق مطالبات کے لیے احتجاجی اقدامات کیے جا رہے ہیں، کل تمام پارلیمنٹیرینز سپریم کورٹ کے باہر جمع ہوں گے اور وہاں دھرنا دیا جائے گا، مطالبہ ہے کہ چیف جسٹس عمران خان کی صحت کے حوالے سے فیصلہ جاری کریں اور ان کی فیملی اور ذاتی ڈاکٹروں کو عمران خان سے ملاقات اور طبی معائنے کی اجازت دی جائے۔
