جعلی اکثریت والوں پر عوام اعتبار نہیں کررہی، مولانا فضل الرحمان

سکھر(قدرت روزنامہ) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جعلی اکثریت والوں پر عوام اعتبار نہیں کررہی ہے۔
سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمیں دو ٹوک بات کرنی ہے اور ہمیں بھائی چارے کی سیاست کرنی ہے، چھبیس ویں آئینی ترمیم کو ہم نے سپورٹ نہیں کیا تھا، اس پر اپوزیشن اور پی ٹی آئی کا اعتراض نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ 28 ویں ترمیم میں ہم نے 6 گزارشات شامل کی ہیں، ہماری پارٹی ذمہ داری محسوس کرتی ہے کہ نظام کو بہتر کریں۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ امن و امان، ملکی معیشت، صوبوں کا معاملہ، سیاسی قیدیوں کی رہائی منشور میں شامل ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ نہ تیاری نہ موقع ہے اور صوبوں کی بات کی جارہی ہے۔
گزشتہ روز ان کا کہنا تھا کہ ملک میں انصاف کا نظام قائم اور ظلم کا نظام ختم کرنے کے لیے جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم کو مضبوط بنانا ضروری ہے، جمعیت علماء اسلام افراد پر مشتمل ایک منظم جماعت ہے، مقاصد کے حصول کے لیے مؤثر حکمت عملی اور مضبوط تنظیم سازی ناگزیر ہے۔
سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، اس لیے انسان کی زندگی کا بنیادی مقصد اللہ کی عبادت اور اس کے احکامات کی پیروی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ جمعیت علماء اسلام جیسی جماعت کا ملنا اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے اور ہمیں اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
