حکومت کا سانحہ پمز کے ذمہ داروں کے خلاف بڑی کاروائی کا اعلان

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سانحہ پمز کے ذمہ داروں کے خلاف اگلے 2 سے 3 دن میں مقدمات درج ہونا شروع ہوں گے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹ کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 لوگوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
کمیٹی اگلے 2 دن میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کرائے گی، جس میں ان 8 افراد کا تعین ہوگا کہ کس کی کتنی غلطی یا غفلت ہے، جس کے بعد ان کے خلاف انفرادی طور پر مقدمات درج کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور نے مزید بتایا کہ پولیس بھی اپنی تفتیش کر رہی ہے اور جلد معلومات سامنے ا جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا لاء ڈیپارٹمنٹ بھی اس پر کام کر رہا ہے اور 2 سے 3 دن میں پولیس فوجداری قوانین کے تحت پرچے درج کرنا شروع کر دے گی۔
دوسری جانب وفاقی پولیس نے اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز کی نرسری میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے والے سانحے کی انکوائری رپورٹ مکمل کر کے آئی جی اسلام آباد کو ارسال کردی اور وزارت داخلہ کو بھیج دی جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ سانحہ پمز پر وفاقی پولیس کی انکوائری رپورٹ وفاقی وزارت داخلہ کو ارسال کی جائے گی، رپورٹ میں نامزد افسران کے تحریری بیانات اور ان کی لوکیشن بھی شامل کی گئی ہے۔
انکوائری کے حوالے سے بتایا گیا کہ پمز اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور سیف سٹی کی فوٹیج بھی رپورٹ کا حصہ ہیں، پولیس نے سابق ای ڈی پمز عمران سکندر اور پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ سے بھی تحری بیانات لے لیے ہیں، اسی طرح ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر مطاہر، چوہدری وارث علی رضا، ڈاکٹر نوشیلا امجد، ڈاکٹر محمد عثمان اور ڈاکٹر عبدالرحمان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پولیس کی جانب سے بچہ بچانے والی نرس رضیہ کا بیان بھی لیا گیا ہے اور تمام کارروائی 174 کی رپورٹ کے تحت کی گئی ہے۔

WhatsApp
Get Alert