سریاب سروس روڈ پر غیر مجاز کھدائی سے شہری انفراسٹرکچر کی تباہی ناقابل قبول ہے، خلاف ورزی پر فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے: بلوچستان ہائیکورٹ کا سخت انتباہ
کسی بھی کھدائی سے قبل این او سی لازمی ہے، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے: ہائیکورٹ کی ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو ہدایت

سریاب روڈ کی 14,500 میٹر سڑک پر بیس کورس اور پل کی تعمیر مکمل، طوفانی پانی کے نالے کا 85 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے: پروجیکٹ ڈائریکٹر کی رپورٹ
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) 7 ستمبر ۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص سریاب سروس روڈ اور طوفانی پانی کی نکاسی کے نظام سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ظہور احمد بلوچ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر، چیف منسٹر پیکج فار کوئٹہ ڈویلپمنٹ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد رفیق، ڈپٹی ڈائریکٹر (قانون و ضوابط) اربن پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کلیم اللہ سمیت دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔پروجیکٹ ڈائریکٹر، چیف منسٹر پیکج فار کوئٹہ ڈویلپمنٹ کی جانب سے سریاب سروس روڈ اور سیلابی پانی نالہ سے متعلق پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق سریاب سروس روڈ کی تکمیل کے لیے منصوبے کو تین حصوں میں تقسیم کرکے مرحلہ وار کام جاری ہے۔ مجموعی طور پر 15,140 میٹر سڑک میں سے 14,500 میٹر پر اسفالٹک بیس کورس مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ رکاوٹوں والے مقامات پر کام باقی ہے۔رپورٹ کے مطابق 15,140 میٹر میں سے تقریباً 6,500 میٹر سڑک پر اسفالٹک پہننے کا کورس مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی کام جاری ہے۔ منصوبے کے تحت پل کی تعمیر بھی مکمل کرلی گئی ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ سریاب سروس روڈ کے ساتھ طوفانی پانی کی نکاسی کے لیے ڈرین کا تقریباً 85 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، تاہم بعض مقامات پر موجود رکاوٹوں کے باعث باقی کام متاثر ہے۔ اسی طرح کرب اسٹون اور پیورز کی تنصیب کا تقریباً 30 فیصد کام مکمل کیا جاچکا ہے جبکہ باقی کام جاری ہے۔سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ بعض کیب اور کمیونیکیشن کمپنیوں کے نامعلوم افراد کی جانب سے متعلقہ حکام سے اجازت حاصل کیے بغیر نئی تعمیر شدہ سریاب سروس روڈ پر غیر مجاز کھدائی کی گئی، جس سے نہ صرف سڑک اور عوامی سہولیات کو نقصان پہنچا بلکہ جاری ترقیاتی کام بھی متاثر ہوئے۔پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے 20 اگست 2026 کو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سریاب، کوئٹہ کو ارسال کردہ خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ 13 فروری 2026 کے خط کی نقل بھی ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی، جس میں متعلقہ سرکاری، نیم سرکاری اور یوٹیلیٹی اداروں کو سمنگلی روڈ یوٹیلیٹی کوریڈور سمیت سریاب اور زرغون روڈز پر یوٹیلیٹیز کی منتقلی کے حوالے سے ضروری ہدایات دی گئی تھیں۔عدالت نے قرار دیا کہ نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں، سڑکوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو بار بار غیر ضروری اور غیر مجاز کھدائی کے ذریعے نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ کسی بھی نئی کھدائی یا یوٹیلیٹی ورک سے قبل پروجیکٹ ڈائریکٹر کو مطلع کیا جائے اور باقاعدہ اجازت حاصل کی جائے۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ جہاں یوٹیلیٹی کوریڈور دستیاب ہو، وہاں اسی کا استعمال کیا جائے جبکہ ضرورت پڑنے پر پروجیکٹ ڈائریکٹر کی نشاندہی کردہ جگہ پر کام کیا جائے تاکہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور پیورز کو دوبارہ نقصان نہ پہنچے۔عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے افراد یا اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جو مناسب صورت میں توہین عدالت کی کارروائی تک بھی پہنچ سکتی ہے۔عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو ہدایت کی کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے غیر مجاز کھدائی یا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی اطلاع ملنے پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی یقینی بنائی جائے۔عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھی ہدایت کی کہ تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی کمپنیوں کو واضح طور پر آگاہ کیا جائے کہ پہلے سے تعمیر شدہ علاقوں میں کسی بھی قسم کا کام شروع کرنے سے قبل پروجیکٹ ڈائریکٹر سے این او سی حاصل کرنا لازم ہوگا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر کام کے لیے مناسب جگہ کی نشاندہی بھی کرے گا۔عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کا سختی سے سدباب کیا جائے۔سماعت کے دوران عطاء اللہ لانگو ایڈووکیٹ کی جانب سے CMA نمبر 3504/2026 بھی دائر کیا گیا، جس کی نقل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو فراہم کردی گئی۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو درخواست کا جائزہ لینے کے لیے وقت دیا۔بعد ازاں عدالت نے مذکورہ ہدایات کے مطابق حکم جاری کرتے ہوئے عدالتی حکم کی نقول ایڈیشنل اٹارنی جنرل بلوچستان اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفاتر کو معلومات اور تعمیل کے لیے متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت کی۔
