انٹرویو کے منتظر اہل وکلاء کے کیسز فوری طور پر انرولمنٹ کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں: کامیاب وکلاء استحقاق کی تاریخ سے لائسنس کے حقدار تصور ہوں گے: بلوچستان ہائیکورٹ لارجر بینچ کا اہم حکم

انرولمنٹ اور پریکٹسنگ لائسنس کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کا ازالہ کیا جائے: بار کونسل کو ہدایت


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) 7 ستمبر: بلوچستان ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے وکلاء کے اندراج اور پریکٹسنگ لائسنس کے حصول سے متعلق اہم حکم جاری کرتے ہوئے بلوچستان بار کونسل کے سیکرٹری کو ہدایت کی ہے کہ انٹرویو کے منتظر تمام اہل وکلاء کے کیسز عدالتِ عالیہ بلوچستان کی انرولمنٹ کمیٹی کے سامنے فوری طور پر پیش کیے جائیں، تاکہ درخواست دہندگان کے اندراج کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے۔یہ حکم بلوچستان ہائیکورٹ کے لارجر بینچ کی جانب سے سی پی نمبر 471 آف 2026، بعنوان ”میر عطاء اللہ، ممبر بلوچستان بار کونسل اور بنام چیئرمین بلوچستان بار کونسل و دیگر“ میں مورخہ 3 اگست 2026 کو جاری کیا گیا۔عدالتی حکم کے مطابق بلوچستان بار کونسل کے دفتر سے کہا گیا ہے کہ ایسے تمام کیسز، جن میں متعلقہ اپرنٹس/وکلاء انٹرویو کے منتظر ہیں، ضروری کارروائی مکمل کرتے ہوئے عدالتِ عالیہ بلوچستان کی انرولمنٹ کمیٹی کے سامنے جمع کرائے جائیں، تاکہ اہل درخواست دہندگان اپنے اندراج اور قانون کے تحت پریکٹسنگ لائسنس کے حصول کے حق سے بروقت مستفید ہو سکیں۔عدالت نے اس امر کی بھی وضاحت کی ہے کہ جو اپرنٹس یا ایڈووکیٹ مقررہ انٹرویو میں کامیاب قرار پاتے ہیں، وہ اپنی استحقاق/اہلیت کی تاریخ سے لائسنس کے حقدار تصور ہوں گے۔ یعنی لائسنس کا حق محض انٹرویو کے بعد کی تاریخ سے نہیں بلکہ اس تاریخ سے تسلیم کیا جائے گا جس تاریخ سے متعلقہ امیدوار قانونی طور پر اس کا حقدار بنتا ہے۔عدالتِ عالیہ کے اس حکم کا مقصد وکلاء کے اندراج کے زیرِ التوا معاملات کو بروقت نمٹانا، اہل امیدواروں کے قانونی حقوق کا تحفظ کرنا اور انرولمنٹ و پریکٹسنگ لائسنس کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کا ازالہ کرنا ہے۔عدالتی حکم کی روشنی میں بلوچستان بار کونسل کے سیکرٹری سے توقع کی گئی ہے کہ وہ انٹرویو کے منتظر تمام متعلقہ کیسز بلا تاخیر عدالتِ عالیہ بلوچستان کی انرولمنٹ کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کے لیے ضروری اقدامات مکمل کریں گے، تاکہ اہل امیدواروں کے اندراج کا عمل قانون اور عدالتی احکامات کے مطابق مکمل ہو سکے۔

WhatsApp
Get Alert