بلوچستان : پبلک ہیلتھ انجینئرنگ گوادر میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں، تین ایگزیکٹیو انجینئرز کو او ایس ڈی بنانے کی ہدایت
ڈھائی سال سے ریکارڈ کی عدم فراہمی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے احکامات نظر انداز کرنے پر پی اے سی کا سخت اظہار برہمی

سرکاری فنڈز کے ضیاع اور مالیاتی قواعد کی خلاف ورزی پر متعلقہ افسران کے خلاف نیب اور اینٹی کرپشن کو کارروائی بھیجنے کا انتباہ
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان صوبائی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس چیئرمین کمیٹی اصغر علی ترین کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے اراکین عبیداللہ گورگیج، فضل قادر مندوخیل، رحمت صالح بلوچ اور صفیہ فضل نے شرکت کی، جبکہ اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری صوبائی اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ بلوچستان شجاع علی، اسپیشل سیکرٹری PAC سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ سمیت متعلقہ محکموں کے دیگر افسران شریک ہوئے۔اجلاس میں ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈویژن گوادر کے مالی سال 2018-19سے 2020-21 کے دوران POL اور مرمت و بحالی کے اخراجات سے متعلق خصوصی آڈٹ رپورٹ، آڈٹ سال 2022-23اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی مورخہ 29 مئی 2025 کی ہدایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی نے رپورٹ میں نشاندہی کی گئی 590.813 ملین روپے کی غیر مجاز واجب الادا رقوم کے معاملے پر تفصیلی بحث کی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق مذکورہ واجبات POL چارجز اور واٹر سپلائی اسکیموں کی مرمت و بحالی کی مد میں ایگزیکٹو انجینئر PHED گوادر کی جانب سے مجاز فورم کی پیشگی منظوری کے بغیر پیدا کیے گئے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ متعلقہ عرصہ 2018 سے 2021 کے دوران تعینات رہنے والے متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز اجلاس میں موجود نہیں تھے، جس پر کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ متعلقہ افسران کو آئندہ اجلاس میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے گا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ متعلقہ افسران آئندہ اجلاس سے قبل تمام ضروری ریکارڈ اور دستاویزی ثبوت محکمہ آڈٹ اور PAC کو فراہم کریں۔ اگر افسران اپنے مؤقف کو دستاویزات کے ذریعے ثابت کرنے میں کامیاب رہے تو متعلقہ پیرا کو نمٹانے پر غور کیا جائے گا، بصورت دیگر ذمہ دار افسران سے ریکوری عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس میں کمیٹی نے متعلقہ تین ایگزیکٹیو انجینیئرز(ایکس ای اینز) جو کہ گزشتہ ڈیڑھ سال پہلے پی اے سی کے احکامات پر تا حال عملدرآمد نہ کرنے ، غیر ذمہ داری عوم کی رقم کی غلط استعمال اور جواب دہ نہ ہونے مسلسل موقع فراہم کرنے کی باوجود 590.813 ملین روپے کی ریکارڈ مہیا نہ کنے عوامی رقم کو ضائع کرنے پر او ایس ڈی کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ اور ان کے کے خلاف رولز کے کارروائی کا حکم بھی دیا۔اس موقع پر عبیداللہ گورگیج نے کہا کہ پی اے سی کو مجبور نہ کیا جائے ورنہ ان ایکس ای اینز کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گا، ان کو ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے پی اے سی میں پیش کر نے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ صفیہ فضل نے کہا کہ ڈیڑھ سال میں محکمہ نے پی اے سی کے احکامات پر عمل درآمد نہ کیا تو اب او کو موقع دینا فضول ہے۔رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ محکمہ پی ایچ ای اپنے آپ کو جوابدہ نہیں سمجھ رہا ہے جو کہ قابل تشویش ہے۔کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر تحقیقات کے نتیجے میں معاملہ سنگین نوعیت کا پایا گیا تو اسے قومی احتساب بیورو (NAB)، چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم (CMIT) یا اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کو بھیجا جا سکتا ہے۔اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے 29 مئی 2025 کو جاری کردہ ہدایات پر تاحال مؤثر پیش رفت نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ رکن کمیٹی فضل قادر مندوخیل نے کہا کہ 16 ماہ گزرنے کے باوجود محکمے کی جانب سے مسلسل مزید وقت طلب کیا جا رہا ہے، جبکہ کمیٹی اراکین اپنے دیگر اہم امور چھوڑ کر اس فورم پر عوامی مفاد میں بیٹھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی متعلقہ افسر دانستہ طور پر کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہو رہا تو محکمہ اس بارے میں واضح طور پر آگاہ کرے تاکہ کمیٹی قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لا سکے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ بلوچستان نے نومبر 2022 میں پی ایچ ای گوادر کے ایگزیکٹو انجینئر کے اکاؤنٹس کا سال 2018 تا 2021 کے دوران POL اور مرمت و بحالی کی مد میں خصوصی آڈٹ کیا۔ آڈٹ کا مقصد حکومتی قوانین، قواعد و ضوابط اور مالیاتی طریقہ کار پر عملدرآمد، ٹینڈرز اور بولیوں کے عمل میں شفافیت، معاہدوں کے دوران مالیاتی اصولوں کی پابندی اور سرکاری فنڈز کے قواعد کے مطابق استعمال کا جائزہ لینا تھا۔ آڈٹ INTOSAI Auditing Standards کے مطابق کیا گیا۔خصوصی آڈٹ رپورٹ میں متعدد اہم بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں 590.813 ملین روپے کی accrued liabilities کا اکاؤنٹس میں اندراج نہ کرنا، 23.967 ملین روپے انکم ٹیکس کی کٹوتی نہ کرنا، 492.363 ملین روپے کے ٹینڈر طلب کیے بغیر غیر باقاعدہ اخراجات، خشک سالی کے دوران واٹر سپلائی اسکیموں کے آپریشن و مینٹیننس پر 38.426 ملین روپے کے غیر جواز یا مشکوک اخراجات، جبکہ POL اور Lubricants کے اہم ریکارڈ اور اسٹاک اکاؤنٹس کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث 492.363 ملین روپے کے مشکوک اخراجات شامل ہیں۔رپورٹ میں مزید نشاندہی کی گئی کہ متعلقہ ڈویڑنل دفتر میں مالیاتی نظم و نسق کمزور تھا، ضروری ریکارڈ اور لاگ بکس کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی، اسٹاک رجسٹر مکمل طور پر برقرار نہیں رکھا گیا اور مجاز اتھارٹی سے ضروری منظوری حاصل کیے بغیر واجبات پیدا کیے گئے۔ اسی طرح اخراجات اور خریداری کے عمل میں حکومتی قواعد کی مکمل پاسداری نہ ہونے کے باعث مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیںکمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بعض متعلقہ افسران نہ صرف ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہے بلکہ PAC جیسے اہم آئینی فورم کے اجلاس میں بھی پیش نہیں ہوئے۔کمیٹی نے محکمہ کو ہدایت کی کہ آڈٹ پیراز پر اپنی پوزیشن، متعلقہ ریکارڈ اور وضاحت 15 روز کے اندر کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے۔اجلاس کے اختتام پر کمیٹی اراکین نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ سیکرٹری متعلقہ محکمے کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے متعلقہ ایکسینز اور دیگر ذمہ دار افسران کو آئندہ اجلاس میں پیش کرنے اور تمام ضروری ریکارڈ کمیٹی کے سامنے رکھنے کا پابند کریں، تاکہ معاملات کو قواعد و ضوابط کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ بصورت دیگر محکمہ کے خلاف سخت فیصلہ کیا جائے گا۔ اس بارے میں اسمبلی میں رپورٹ پیش کیا جائے گا۔
