آدھا بجٹ ہمیں دیں تو ہم خود اپنی حفاظت کریں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کو براہِ راست جھونکنا مناسب نہیں، امن قائم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے: حافظ حمداللہ
عوام پہلے ہی مہنگائی اور بدامنی کا شکار ہیں: رہنما جے یو آئی (ف)

دیرپا امن کے لیے سیاسی اور معاشی اقدامات ضروری، عوام پر غیر معمولی بوجھ ڈالنے کی پالیسی مسترد کرتے ہیں
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمداللہ نے ملک میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کو کیوں شامل کیا جائے، امن و امان برقرار رکھنا ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اپنے بیان میں حافظ حمداللہ نے کہا کہ ہم عوام کیوں لڑیں؟ آپ کیوں نہیں لڑتے؟ آدھا بجٹ ہمیں دو، پھر دیکھو ہم اپنی حفاظت کیسے کرتے ہیں‘ان خیالات کا اظہار انہوںنے گزشتہ ورز بات چیت کرتے ہوئے کیا حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ عوام پہلے ہی بدامنی، مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں انہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں براہِ راست جھونکنا مناسب نہیںانہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے صرف طاقت کا استعمال کافی نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور انتظامی سطح پر بھی مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے دیرپا امن کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں جن سے عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو اور مسائل کو سیاسی و انتظامی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ عوام کو بنیادی سہولیات، وسائل اور اختیارات فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے علاقوں کی ترقی اور بہتری میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔ بہتر حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور معاشی مواقع پیدا کیے بغیر پائیدار امن کا قیام مشکل ہوگا۔انہوں نے زور دیا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور حکومت کو چاہیے کہ امن و امان کے قیام کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے عوام کو تحفظ فراہم کرے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور عوام کے درمیان اعتماد اور تعاون ضروری ہے، تاہم عوام کو اپنی حفاظت کے لیے غیر معمولی بوجھ اٹھانے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
