خیبر پختونخوا میں سول جج کے امتحانات کا حیران کن نتیجہ، 105 آسامیوں پر محض 3 امیدوار کامیاب

پشاور(قدرت روزنامہ)‘خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن’ کے تحت ہونے والے سول جج کے امتحانات میں 105 اسامیوں کے لیے 1024 امیدواروں میں سے محض 3 کامیاب ہو سکے ہیں۔
اس انتہائی مایوس کن نتیجے نے صوبے کے عدالتی اور قانونی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے، جس کے بعد بھرتی کے مروجہ نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
‘پشاور ہائی کورٹ’ کی جانب سے اپریل 2026 میں گریڈ 18 کے سول ججز کی 105 اسامیوں کے لیے اشتہار دیا گیا تھا۔ ان عہدوں کے لیے مجموعی طور پر 3097 درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جن میں سے تمام اہل امیدواروں کو تحریری امتحان میں بیٹھنے کی عبوری اجازت دی گئی تھی۔
بدھ کو جاری ہونے والے نتائج کے مطابق 1024 امیدواروں نے امتحان میں حصہ لیا، لیکن کامیابی کا تناسب نہ ہونے کے برابر رہا۔ صرف جنوبی وزیرستان سے ’صبا رسول‘، باجوڑ سے ’عبداللہ نور‘ اور مردان سے ’سید زاہد حسین‘ ہی اگلے مرحلے تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکے۔
مضامین کی تفصیل، انگریزی اور جنرل نالج میں بدترین کارکردگی
امتحانی پرچوں میں انگریزی، اردو، پشتو، جنرل نالج، سول لاء، کرمنل لا، اسلامی فقہ اور قانونِ شہادت کے مضامین شامل تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق، انگریزی کے پرچے نے امیدواروں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ کا کردار ادا کیا، جس میں 1024 میں سے صرف 149 امیدوار ہی پاس ہو سکے۔ اسی طرح جنرل نالج کے پرچے میں بھی 1005 امیدواروں میں سے 687 فیل ہو گئے۔
دوسری جانب علاقائی اور قانون کے مضامین میں کامیابی کا تناسب قدرے بہتر رہا۔ پشتو کے پرچے میں 340 میں سے 335 امیدواروں نے کامیابی سمیٹی۔اردو کے امتحان میں 654 میں سے 369 امیدوار پاس ہوئے۔
قانون کے مضامین کی بات کی جائے تو سول لا ون میں 996 میں سے 587 اور سول لا ٹو میں 537 امیدوار کامیاب ہوئے۔ کرمنل لا میں 996 میں سے 803 امیدواروں نے پرچہ پاس کیا، جبکہ اسلامی فقہ میں 993 میں سے 697 اور قانونِ شہادت میں 995 میں سے 775 امیدوار سرخرو ہوئے۔
کامیاب امیدواروں کے لیے ہدایات اور ری ٹوٹلنگ کی سہولت
کمیشن نے تینوں کامیاب امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر اپنے دستخط شدہ تصدیق شدہ کاغذات جمع کروائیں۔
اس کے علاوہ، جو امیدوار یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے نمبروں کی گنتی میں کوئی غلطی ہوئی ہے، وہ کمیشن کے مروجہ طریقہ کار کے تحت ری ٹوٹلنگ کی درخواست بھی دے سکتے ہیں۔
بار کونسل کے شدید تحفظات اور مطالبات
نتائج کے اس حد تک کم ہونے پر ’خیبر پختونخوا بار کونسل‘ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کونسل نے ان نتائج کو الارمنگ قرار دیتے ہوئے امتحانی اور جانچ کے پورے عمل پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
بار کونسل کا مؤقف ہے کہ صوبے میں پہلے ہی ججوں کی شدید کمی ہے اور عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کا انبار لگا ہوا ہے۔ ایسی صورتحال میں 105 آسامیوں کے مقابلے میں محض 3 افراد کا پاس ہونا ایک سنگین بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔
کونسل نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور پرچوں کی جانچ کے معیار کا دوبارہ جائزہ لیں۔
نظامِ عدل اور تعلیمی معیار پر اٹھتے سوالات
یہ نتائج محض ایک امتحان کی کارکردگی تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ صوبے کے قانونی تعلیمی معیار اور پبلک سروس کمیشن کے جانچنے کے طریقہ کار پر ایک جامع بحث کا تقاضا کرتے ہیں۔
ایک طرف لاکھوں کی تعداد میں مقدمات التوا کا شکار ہیں، تو دوسری جانب ججوں کی عدم دستیابی اس بحران کو مزید گھمبیر بنا رہی ہے۔
اگر قانونی ڈگری یافتہ سینکڑوں امیدوار انگریزی اور جنرل نالج جیسے بنیادی پرچے پاس کرنے سے قاصر ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ تعلیمی اداروں کی سطح پر شدید خامیاں موجود ہیں۔
اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، اب یہ تجویز زور پکڑ رہی ہے کہ سول ججز کی بھرتیاں ‘پبلک سروس کمیشن’ کے بجائے براہِ راست ‘پشاور ہائیکورٹ’ کے زیرِ نگرانی کی جائیں، بالکل اسی طرح جیسے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی بھرتیاں ہوتی ہیں۔
اس اقدام سے نہ صرف بھرتی کے عمل میں شفافیت آئے گی بلکہ عدلیہ کی ضروریات کے عین مطابق امیدواروں کا انتخاب بھی ممکن ہو سکے گا۔ بار کونسل نے واضح کیا ہے کہ اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو وہ قانونی چارہ جوئی کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert