جامعہ بلوچستان میں بے ضابطگیاں، اضافی الاؤنسز کی ادائیگی ‘ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا بیرون ملک سے واپس نہ آنے والے اسکالرز سے 9 کروڑ روپے سے زائد وصول کرنے کا حکم
قریبی رشتہ داروں کو ضامن نہ بنانے کی ہدایت ریکارڈ کی فراہمی میں مسلسل تاخیر ناقابلِ قبول، اندرونی نگرانی کو موثر بنایا جائے: پی اے سی کا جامعہ کی انتظامیہ کو انتباہ

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ )بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس میں جامعہ بلوچستان کے مالی اور انتظامی معاملات سے متعلق مختلف آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین نے کی، جبکہ کمیٹی ارکان فضل قادر مندوخیل، عبیداللہ گورگیج اور صفیہ فضل نے شرکت کی۔اجلاس میں جامعہ بلوچستان کے مالی سال 2019-21 کے دوران مختلف الانسز کی مد میں 47.601 ملین روپے یعنی 4 کروڑ 76 لاکھ ایک ہزار روپے کی اضافی ادائیگی سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ کے مطابق یوٹیلیٹی الانس کی مد میں 42.763 ملین، اٹینڈنٹ الانس کی مد میں 2.678 ملین جبکہ کمپیوٹر الانس کی مد میں 2.160 ملین روپے ادا کیے گئے۔آڈٹ حکام کے مطابق مذکورہ اضافی ادائیگیاں کمزور مالی اور اندرونی نگرانی کے باعث ہوئیں، جس سے جامعہ کو مالی نقصان پہنچا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ معاملہ 27 ستمبر 2022 کو جامعہ انتظامیہ کے سامنے اٹھایا گیا، تاہم مقررہ مدت میں جواب موصول نہیں ہوا۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ یوٹیلیٹی الانس کی ادائیگی کے جواز کے لیے سینیٹ کی منظوری اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی توثیق حاصل کی جائے، جبکہ کمپیوٹر الانس کے لیے متعلقہ قواعد کے مطابق اہلیت کا معیار پیش کیا جائے۔ اٹینڈنٹ الانس روکنے اور زائد ادا شدہ رقم متعلقہ افسران و اہلکاروں سے وصول کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں بیرون ملک اسکالرشپس حاصل کرنے کے بعد واپس نہ آنے والے افراد سے متعلق آڈٹ اعتراض بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی نے جامعہ بلوچستان کو ہدایت کی کہ چیف سیکریٹری بلوچستان کے تعاون سے وفاقی تحقیقاتی ادارے، قومی شناختی ادارے اور وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے ایسے اسکالرز کی واپسی کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں۔کمیٹی نے مذکورہ اسکالرز یا ان کے ضامنوں سے 91.565 ملین روپے یعنی 9 کروڑ 15 لاکھ 65 ہزار روپے کے اخراجات کی وصولی کے لیے قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔پی اے سی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بعض معاملات میں اسکالرز کے ضامن ان کے قریبی خونی رشتہ دار تھے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اسکالرشپ میں کسی مستفید فرد کا ضامن اس کا قریبی خونی رشتہ دار مقرر نہ کیا جائے۔کمیٹی نے جامعہ بلوچستان کو بیرون ملک اعلی تعلیم کے لیے فیکلٹی ارکان کو اسکالرشپس دینے کے حوالے سے شفاف، میرٹ پر مبنی اور جوابدہ نظام وضع کرنے کی ہدایت بھی کی، تاکہ سرکاری وسائل کا مثر اور شفاف استعمال یقینی بنایا جاسکے۔وائس چانسلر جامعہ بلوچستان نے کمیٹی کو بتایا کہ بیرون ملک موجود ایسے اسکالرز کی واپسی کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطے اور مختلف مقامات پر کوششیں کی گئی ہیں، جبکہ بعض معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔اجلاس میں ایک سال سے زائد عرصے سے مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ ریکارڈ کی بروقت فراہمی میں مسلسل تاخیر ناقابل قبول ہے اور متعلقہ اداروں کو ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے تمام مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی۔پبلک اکانٹس کمیٹی نے جامعہ بلوچستان کے مالی و انتظامی معاملات میں شفافیت، مثر اندرونی نگرانی، قواعد و ضوابط کی پابندی اور آڈٹ اعتراضات پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔
