شفیع جان صاحب! آج آپ نے مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کو سیاسی طور پر زخمی کرنا چاہا

مگر نشانہ اپنی ہی جماعت کی اخلاقی برتری کو بنا بیٹھے، خواتین کے نکاح اور نجی زندگی کو سیاست میں گھسیٹنا پشتونوں کی روایت نہیں، شیرافضل خان مروت


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شیرافضل مروت کا کہنا ہے کہ شفیع جان صاحب! آج آپ نے مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کو سیاسی طور پر زخمی کرنا چاہا، مگر نشانہ اپنی ہی جماعت کی اخلاقی برتری کو بنا بیٹھے۔ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ PTI کی اصل طاقت اس پر ہونے والا جبر اور اس کی مظلومیت ہے؛ آپ نے مخالفین کو وہ دلیل دے دی جو وہ مدت سے تلاش کر رہے تھے۔
”جب دلیل کا دامن چھوٹ جائے تو زبان کردار کے گریبان تک پہنچتی ہے؛ مگر داغ ہمیشہ گریبان پر نہیں، ہاتھوں پر بھی رہ جاتا ہے۔“ خواتین کے نکاح، کردار اور نجی زندگی کو سیاست میں گھسیٹنا نہ بہادری ہے، نہ سیاست، نہ پشتون روایت۔ مخالف کی پالیسی سے لڑیے، اس کے گھر کی دہلیز عبور نہ کیجیے۔
وزیر کے الفاظ اس کے منصب اور تربیت دونوں کا تعارف ہوتے ہیں۔
مخالف کا قد گھٹانے کے لیے زبان کو اتنا نیچا نہ کیجیے کہ ناپنے والے کو آپ کا اپنا قد چھوٹا دکھائی دینے لگے۔ افسوس، آج آپ کی تقریر کا دفاع کرنا، اس کی مذمت کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ دوسری جانب وزیراطلاعات کےپی شفیع جان کا کہنا ہے کہ عظمیٰ بخاری سے متعلق میرے بیان کا غلط مطلب لیا گیا، کیا پختونوں کو جنگلی کہنے پر معافی مانگی گئی؟ جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عظمیٰ بخاری سے متعلق میرے بیان کا غلط مطلب لیا گیا، کیا عظمیٰ بخاری نے پختونوں کو جنگلی کہنے پر معافی مانگی ہے؟ وہ جس طرح کے جنگلی بیانات دے رہے ہیں، ایسے لو گ ہمارے پاس بھی ہیں کہ وہ وہاں جاکر جنگلی بیانات دے سکتے ہیں، اگر کوئی اس کا غلط مطلب نکال رہا ہے تو اس کی ذہنیت کا سوال ہے، عظمیٰ بخاری اگر معافی مانگ لیں گی تو میں بھی بیان نہیں دوں گا۔
مریم نواز نے جو بیان دیا کہ وہ ٹھیک ہے؟ مطلب مودی کو کلین چٹ دے دی، جبکہ صوبوں کو ذمہ دار کہہ رہی ہیں، مریم نواز کا چھوٹے صوبوں سے متعلق بیان ملک توڑنے کے مترادف ہے، اس بی بی سے ملک کو خطرہ ہے۔ دوسری جانب سابق وزیر فواد چوہدری کی اہلیہ حباہ فواد کا کہنا ہے کہ شفیع جان نے آج عظمیٰ بخاری کے بارے میں جو زبان استعمال کی، وہ انتہائی شرمناک ہے۔
ایکس پر اپنے ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ شفیع جان نے آج عظمیٰ بخاری کے بارے میں جو زبان استعمال کی، وہ انتہائی قابلِ مذمت اور شرمناک ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر کسی خاتون کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ شفیع جان سے صرف ایک سوال: کیا آپ کے اپنے گھر کی ماں، بہن اور بیٹی کو بھی اسی زبان سے پکارا جاتا ہے؟ اختلاف کریں، تنقید کریں مگر تہذیب اور حدود مت بھولیں۔

حبا فواد نے کہا کہ اختلاف اپنی جگہ، مگر خواتین کی تضحیک ناقابلِ قبول ہے۔ شفیع جان اپنے الفاظ کی وضاحت کریں اور اس نامناسب زبان پر معافی مانگیں۔ خواتین کا احترام لازم ہے۔

یاد رہے وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ شفیع جان نے کےپی اسمبلی میں کہا کہ مریم نواز کو اپنے بیان پر معافی مانگنی پڑے گی، یہ پختونوں کو جنگلی کہتے ہیں، اگر جنگلی بہت پسند ہیں تو ہم بھجوا دیتے ہیں، مریم نواز سے معافی کا بار بار مطالبہ کرتے رہیں گے۔
مریم نواز نے مودی کو بری الذمہ قرار دے کر قوم کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ پنجاب کو پڑوسی ملک سے نہیں بلکہ پڑوسی صوبوں سے خطرہ ہے کہنا نہ صرف دشمن بھارت کو کلین چٹ دینے کے مترادف ہے بلکہ پاک فوج کے چار سالہ مؤقف اور بھارتی جارحیت کے خلاف قومی بیانیے کی بھی کھلی نفی ہے۔ اگر دشمن سے خطرہ نہیں تو پھر مودی کی جارحیت اور پاکستان کے خلاف سازشوں کا ذمہ دار کون ہے؟ اپنے ہی صوبوں کو نشانہ بنانا سیاسی تعصب کی انتہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس، میمو گیٹ سے آج کے بیان تک، قوم سب کچھ یاد رکھتی ہے۔ مریم نواز کے بیان پر بھارتی میڈیا ایک ہفتے سے مسلسل پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ پنجاب میں تحریک انصاف کے کارکنوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے، مگر مودی کے خلاف ایک لفظ نہیں نکلتا۔ دشمن کو نظرانداز کرکے اپنے ہی صوبوں کو خطرہ قرار دینا سیاسی تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟ رانا ثناء اللہ کو ہر سیاسی جدوجہد میں 9 مئی ہی نظر آتا ہے۔
وہ کہتے ہیں ایک اور 9 مئی کی تیاری ہو رہی ہے۔ بندہ جس ذہنیت کا ہو، اسی طرح سوچتا ہے؛ ان کا مائنڈ سیٹ ماڈل ٹاؤن اور مرید کے والا ہے۔ اور آج جن اداروں کے دیے ہوئے ثبوتوں کی بنیاد پر وہ بات کر رہے ہیں، انہی اداروں کے حوالے سے ماضی میں رانا ثناء اللہ پر کالعدم تنظیموں اور ان کے کارکنوں سے انتخابی روابط کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔ پہلے اپنے ماضی کا حساب دیں، پھر دوسروں پر انگلی اٹھائیں۔

WhatsApp
Get Alert