وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ن لیگ کو پنجاب کے کسی بھی شہر میں عوامی جلسے کا کھلا سیاسی چیلنج

پشاور (قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ن لیگ کو پنجاب کے کسی بھی شہر میں عوامی جلسے کا کھلا سیاسی چیلنج دے دیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ پنجاب کے کسی بھی شہر کا انتخاب نون لیگ خود کرے، جبکہ تحریک انصاف کے لیے بھی وہ اپنی مرضی کا کوئی بھی شہر منتخب کر لے۔
دن، تاریخ اور وقت بھی نون لیگ خود طے کرے۔ شرط صرف یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کو مکمل اور یکساں لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے۔ اگر نون لیگ کا جلسہ عوامی شرکت کے اعتبار سے PTI کے جلسے سے بڑا ثابت ہوا تو میں سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن اگر PTI کا جلسہ بڑا ہوا تو مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کے عوام کے سامنے اپنے عوامی مینڈیٹ سے متعلق اٹھنے والے سوالات، سیاسی کارکنوں پر ظلم و جبر اور اپنی طرزِ حکمرانی اور بدترین کارکردگی پر جواب دینا ہوگا۔
میں ساری نون لیگ کو ایک کھلا سیاسی چیلنج دیتا ہوں۔
پنجاب کے کسی بھی شہر کا انتخاب نون لیگ خود کرے، جبکہ تحریک انصاف کے لیے بھی وہ اپنی مرضی کا کوئی بھی شہر منتخب کر لے۔ دن، تاریخ اور وقت بھی نون لیگ خود طے کرے۔ شرط صرف یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کو مکمل اور یکساں لیول پلیئنگ فیلڈ دی…
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) September 17, 2026
اور عوام سے معذرت کرکے اپنی سیاسی حکمتِ عملی اور لیڈرشپ پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ میں یہ چیلنج ایک بار پھر پوری وضاحت کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔
اگر مسلم لیگ (ن) کو اپنی کارکردگی اور پنجاب کے عوام کی حمایت پر یقین ہے تو اسے یہ چیلنج قبول کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ میرا مؤقف ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے لیے سب سے بڑا سیاسی امتحان خود مریم نواز کی ناجائز مینڈیٹ کے ذریعے مسلط کی گئی حکومت کی کارکردگی ہے۔ اگر انہیں اپنی ناجائز حکومت کی کارکردگی اور عوامی مقبولیت پر اعتماد ہے تو آئیں، میدان میں آ کر عوام کی طاقت کا فیصلہ ہونے دیں۔ اب فیصلہ دعووں، سرکاری اعداد و شمار یا میڈیا بیانات سے نہیں، بلکہ عوام کی موجودگی اور عوامی ردِعمل سے ہونے دیں۔ چیلنج سامنے ہے۔ فیصلہ پنجاب کے عوام کریں گے جیسے انہوں نے 8 فروری کے دن تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت دے کر کیا تھا، انتظار رہے گا، ان شاء اللہ
